Posts

Showing posts from April, 2024

بڑے مّموں والی شہزادی کی چدائی

Image
یہ کہانی بالکل سچی ہے لیکن اس کے تمام نام فرضی ہیں تا کہ کسی کی بھی شناخت ظاہر نہ ہو سکے۔ میرا نام شاکر ہے میری عمر 32 سال کے قریب ہے۔ یہ کوئی ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے۔ ایک دن میرے کمرے میں تمام کمپیوٹرز خراب تھے اور مجھے کام کرنے کے لئے دوسرے کمرے میں جانا پڑا۔ جہاں کام ختم کرنے کے بعد حاجی صدیق صاحب نے مجھے اپنے پاس بلا لیا اور کہا کہ کبھی ہمارے پاس بھی آ کر بیٹھ جایا کریں۔ میں نے کہا حاجی صاحب آپ چائے پلائیں تو میں آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں۔ تو ان کو جیسے سانپ سونگ گیا اچانک ان کی میز کے دوسری طرف بیٹھی ایک لڑکی نے کہا سر چائے پلا دیں گے آپ بیٹھنے والی بات کریں اس کی بات سن کر میں حاجی صاحب کی ٹیبل پر بیٹھ گیا حاجی صاحب نے بتایا کہ یہ شہزادی صاحبہ ہیں اور چند دن پہلے ہی آفس جوائن کیا ہے۔ انہوں نے ایک معروف سیاسی شخصیت کا نام بھی لیا اور بتایا کہ یہ ان کی رشتہ دار ہیں اور ان کی سفارش کی بدولت ہی اس دفتر میں آئی ہیں۔ میرے کان حاجی صاحب کی طرف اور نگاہیں شہزادی صاحبہ کی طرف تھی جو کسی بھی طرح سے شہزادی نہیں لگ رہی تھی 20 سال کے قریب عمر کی موٹے جسم کی مالک سانولے رنگ کی عام شکل و صورت کی ...

سالی اور بہنوئی

Image
یہ کہانی ہے میری اور میری سالی کی۔ اس کہانی میں سارے نام فرضی ہیں۔ کیونکہ یہ کہانی بالکل حقیقت ہے۔ میری شادی کو دو سال ہوئے تھے اور میرا ایک خوبصورت سا بیٹا تھا، ایک بار میری بیوی نے فرمائش کی کہ پکنک پر چلتے ہیں سمندر کے کنارے میں نے حامی بھر لی کافی دن سے باہر کا کوئی پروگرام نہیں بنا تھا اس لیے اور میری دو دن کی چھٹی آ رہی تھی۔ میری بیوی نے کہا ہم لوگ جیا کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے۔ جیا میری اکلوتی سالی ہے میرے سسر کے دو ہی بچے تھے ایک میری بیوی اور ایک میری سالی۔ میری سالی کی عمر بیس سال ہے اور وہ خوبصورت تو ہے ہی مگر سیکسی بھی بہت ہے اچھے اچھوں کا ایمان خراب کر سکتی ہے۔ خیر پروگرام طے ہو گیا سالی کو بھی مطلع کر دیا گیا۔ وہ ایک دن پہلے ہی ہمارے گھر آ گئی۔ صبح ہم کو نکلنا تھا۔ جلدی جلدی ہم نے ناشتہ وغیرہ کر کے سامان گاڑی میں رکھا اور نکل پڑے 2 گھنٹے کی ڈرایونگ کے بعد ہم لوگ اپنے ہٹ پر پہنچ گئے۔ ہٹ مجھے آفس کی جانب سے ملتا تھا سال ، یہ ہٹ کیا تھا اچھا خاصہ بنگلہ تھا۔ یہ صرف آفیسرز کی عیاشی کے لیے مخصوص تھا مگر میں چکر چلا کر لے لیا کرتا تھا۔ میری بیوی میری سالی سے بہت پیار کرتی ہے اور...

کچی کلی New Episode

Image
 اس وقت میری عمر****برس تھی میں نہ صرف اپنی فیملی بلکہ سکول میں بھی سب سے پیاری لڑکی سمجھی جاتی تھی میرے ابو جنوبی کوریا میں کافی عرصے سے کام کرتے تھے میرا ماموں اور انکی اہلیہ ہمارے گھر رہتے تھے میرے ماموں کا کوئی خاص کاروبار نہیں تھا اور انکی اولاد بھی نہ ہو سکی تھی ماموں مجھے موٹرسائیکل پر سکول پہنچاتے اور وہاں سے لے جانے کے ساتھ گھر کے دیگر کام بھی سرانجام دیتے تھے یہ مارچ 2016کا آخری ہفتہ تھا جب میرے والد کچھ ماہ کے لئے گھر آئے تھے اور میرے لئے سامسنگ کا ایک سل فون لائے تھے میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی وہ میرا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے ابو کے موبائل لانے کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ میسنجر یا وائس ایپ پر کال کے ذریعے ہم سے رابطے میں رہیں گے ابو نے مجھے میسنجر اور واٹس ایپ پر کال کرنا سکھا دیا تھا میں گھر آ کر موبائل کو زیادہ وقت دینے لگی تھی ابو کی جہاں موجودگی تک میں گیمز تک محدود رہی تھی اور ان کے جانے کے بعد میں فیسبک پر آگے بڑھنے لگی تھی سکول میں شکیلہ میری سب سے اچھی دوست تھی وہ بھی فیسبک کے ساتھ واٹس ایپ بھی استعمال کرتی تھی اور مجھے بھی جہاں بہت کچھ سکھا رہی تھ...

بہن نے بھائی سے چدوایا

Image
  میرا اصل نام تو کچھ اور ہے مگر آپ مجھے زوہیب کہہ سکتے ہیں اور میرا تعلق لاہور کے مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ یہ میری پہلی کہانی ہے اور اس سے پہلے میں نے کبھی اس طرح کا نہیں لکھا اس لیے ہو سکتا ہے کہ آپ کو میرا لکھنے کا انداز پسند نا آئے۔ مگر کیوںکہ یہ میری آپ بیتی ہے اس لیے آپ کو سنا رہا ہوں، کوئی غلطی ہو تو معاف کر دیجیئے گا، ویسے تو سب ہی یہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری سچی کہانی ہے اس لئے میں آپ سے ایسا کچھ نہیں کہوں گا، آپ خود پڑھ کر ہی فیصلا کیجیئے گا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے اپنے گریجوئیشن کے پیپر دیئے تھے اور رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا، مجھے 20 دنوں کے لئے اپنی نانی کے گھر رہنا پڑا کیوںکہ میں کراچی گھومنا پھرنا چاہتا تھا کیوںکہ ایگزام سے نیا نیا فارغ ہوا تھا۔ میری نانی ماں کا گھر کافی بڑا ہے اور اس میں میری نانی کے علاوہ میرے ماموں اور ان کی فیملی رہتی ہے۔ ماموں کے یوں تو 6 بچے (تین لڑکے اور 3 لڑکیاں) ہیں مگر میری یہ کہانی مریم کے گرد گھومتی ہے جو مجھ سے 2 سال چھوٹی ہے۔ نانی کے گھر انجوائمینٹ کے لئے صرف ٹیلیویژن تھا اور انٹرنیٹ نہیں تھا، اس لئے وقت گزاری کے لئے انٹرنیٹ کنیکشن ...

ارم میری بہن

Image
اسلام و علیکم دوستوں. سب سے پہلے میں آپ کو اپنی فیملی کے بارے میں بتا دوں.. میں اس وقت پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا اور میری عمر 9 سال تھی.ارم مجھ سے 2 سال چھوٹی بہن تھی..اور اس کے بعد ایک بھائی تھا..فی الحال ہم 3 بہن بھائی تھے اور امی اس وقت حاملہ تھی چوتھے پچے کے لیے.میرے ابو دوسرے شہر میں کام کرتے تھے..چونکہ امی حاملہ تھی اور ابو گھر نہیں تھے ہوتے تو ہم سب بہن بھائی انجواۓ کرتے اور ساتھ محلے کے بچے بھی آجاتے اور ہم رات ک وقت گھر میں چھپن چھپائی کھیلتے. ایک دن ہم رات کے وقت کھیل رہے تھےکچھ محلے کے بچے تھے اور ارم تھی اور میں تھا..تب میں کہا کہ آج ڈاکٹرڈاکٹر کھیلتے ہیں.میں ان سب کو مریض بناتا اور ان کو ننگا کر کے الٹا لٹا کر گانڈ ننگی کرتا اور اپنی للی نکال کر اس میں رگڑتا اور کہتا کہ ٹیکا لگ رہا ہے..ہم اسی طرح کھیلتے رہتے اور وہ بچے چلے جاتے لیکن میں اور ارم کھیلتے رہتے..میں ارم کو ننگی کرتا تب ارم کی پھدی بالکل چھوٹی سی تھی اور اس پھدی میں للی رگڑتا اور کبھی ارم مجھے نیچے لٹا کر میری للی پر اپنی ننھی سی پھدی ننگی کر کے رکھ کر اپنے ھاتھ سے پکڑ کر مسلتی میری للی پر اور کہتی ٹیکا لگ رہا ...