یس باس


دوستو میں ایک شریف بیوی تھی کیونکہ میں نے کبھی اپنے شوہر کے سوا کسی سے بھی سیکس نہیں کیا تھا میری بہت سی دوستوں نے سیکس کا مزہ لیا تھا لیکن میں میں نے اس کو ایک امانت سمجھا ہمیشہ شوہر کے لئے پھر میری شادی ہوئی اور میں ایک کنواری لڑکی کے روپ میں شو ہر کو ملی اور میرے شوہر میری سیل پیک چوٹ کو دیکھ کر انتہائی خوش ہوتے میں بھی دل و جان سے انکو چاہتی تھی ۔ پھر ایسا ہوا کہ میرے شوہر کو سنگا پور میں ایک اچھی جوب آفر ہوئی جو کہ تین سال کے لئے تھی انہوں نے بہتر مستقبل کے لئے ہاں کہہ دی اور شادی کے سات مہینوں میں ہی مجھے روتا چھوڑ کر وہ چلے گئے پھر وہ وہاں سیٹ ہو گئے چار ماہ تک تو انکی جاب بر قرار رہی پھر اچانک جس فرم میں وہ جاب کرتے تھے وہ بند ہوگئی اس کی وجہ سے وہ بیروز گار ہو گئے تھے اور وہ واپس آنا بھی نہیں چاہتے تھے اور گھر میں بھی خرچے کا مسئلہ آگیا اور پھر انہوں نے مجھ کو ان کا ساتھ دینے کا کہا اور مجھ کو جاب کرنے کا بولا میں بی اے پاس تھی لیکن کہیں کبھی جاب نہیں کی تھی کچھ عرصہ میں جاب ڈھونڈتی رہی پھر میری بھا بھی نے ان کے کلاس فیلو کی کمپنی بھیجا میں وہاں گئی اپنی ڈاکومنٹس جمع کیں 2 دن بعد مجھے سلیکٹ کر لیا گیا اگلے دن میں نے کمپنی جوائن کر لی۔ آفس میں میرا کام فراز جو کہ بھا بھی کے کلاس فیلو تھے کی اسٹنٹ کا تھافراز بہت اچھے آدمی تھے انہوں نے مجھے سارا کام سکھایا اور جو کام کیا ان کے کیبین میں ہی بیٹھ کر کام کرتی رہتی تھی انہوں نے ہمیشہ  مجھے میز کی دوسری سائیڈ سے ہی کام سیکھایا

نا کے قریب  ۔۔۔۔۔ لیکن وہ میری چھاتی کو اکثر دیکھتے رہتے تھے جس کا میں نے کبھی برا نہیں منایا تھا میں اس کو

مردوں کی فطرت سمجھتی تھی پھر ایک دن مجھے ان سے کچھ سمجھنا تھا تو میں نے ان کو بولا سر میں اس طرف آجاؤں یہ سمجھنے کے لئے تو انہوں نے بولا آجاؤ میں جب انکی سائیڈ پر گئی تو انہوں نے مجھے سارا کام سمجھایا اور خوب ہیلپ کی ۔۔۔۔۔۔  پھر اچانک میری نظر ان کے لنڈ کی طرف گئی تو انکالنڈ باہر نکلا ہوا تھا میں ہنس دی تو اس نے بولا سونیا کیوں ہنسی ہو میں بولی سر آپ کا کچھ باہر نکلا ہوا ہے وہ بولے کیا میں بولی نیچے جب اس نے دیکھا پھر وہ بھی ہنس دیے اور بولے سوری لیکن مجھ کو یہ نکال کر کام کرنے کی عادت ہے اس لئے میں تم کو اس طرف نہیں بلاتا ان کالنڈ بہت بڑا تھا خیر میں اپنی سیٹ پر واپس چلی گئی مجھ کو انکا لنڈ پسند آیا تھا اور پھر کام ختم کر کے گھر چلی گئی اس رات کو دیر تک مجھے نیند نہیں آئی فراز کالنڈ میرے شوہر سے بڑا اور موٹا تھا اور اس لنڈ نے میری چوت میں ایک آگ سی لگا دی تھی مجھ کو شوہر یا د آ ر ہے تھے جس سے میں چدوا کر خوش تھی اگلے دن میں تھکی تھکی سے تھی کیونکہ نیند بھی پوری نہیں تھی آفس میں بار بار میرا دل کرتا کہ میں پھر سے ان کے قریب جاؤں لیکن ہمت نہیں تھی پھر میں جلدی گھر آگئی پھر میں نے سوچا کہ انکا لنڈ دیکھنے میں کیا حرج ہے میں کونسا ان سے چدواؤں گی پھر میں آفس میں اکثر ان کے قریب جاتی جس کو انہوں نے محسوس کر لیا تھا لیکن انہوں نے منع نہیں کیا اور نا بھی مجھے چھونے کی کوشش کی پھر اکثر جب میں قریب جاتی تو وہ ٹھیک سے بیٹھ جاتے تا کہ میں انکالنڈ ٹھیک سے دیکھ سکوں میں بھی ان کے لنڈ کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھاتی پھر کچھ دنوں سے میں نے محسوس کیا کہ فراز صاحب کچھ پریشان تھے میں نے ایک دو بار پوچھا تو انہوں نے بولا کوئی مسئلہ نہیں ہے پھر ایک دن ہم شام کو دیر تک کام کر رہے تھے انہوں نے سارا دن کوئی کام نہیں کیا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے پوچھا سر کیا آپ مجھے دوست سمجھتے ہیں تو انہوں

نے کہا ہاں تو میں نے پوچھا سر آپ کچھ دن سے پریشان لگ رہے ہیں کیا آپ مجھ سے شیر کر سکتے ہیں انہوں نے بولا پر یشان ہوں لیکن تم کو نہیں بول سکتا میں بولی گھر یلو مسئلہ ہےتو انہوں نے بولا نہیں میں بولی جب گھر کا مسئلہ نہیں تو آپ کھل کر مجھ کو بتاسکتے ہیں

تم کو برا لگے گا

نہیں میں برا نہیں مانوں گی شاید میں آپکے کام آسکوں پلیز سر مجھے بولیں

کوئی گندی بات ہوئی تب بھی برا نہیں مانو گی اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا

بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔

میری ایک گرل فرینڈ ہے ہم بہت فری ہیں اور کئی بار ہمار ملن ہو چکا ہے اب وہ چلی گئی ہے ہمیشہ کے لئے لاہور اور میں سیکس کسی سے نہیں کر پارہا ہوں اس کی وجہ سے ٹینشن میں ہوں تم کسی سے مجھے ملا وہ و مہربانی ہوگی آخر تم میری دوست ہو اس نے مجھ سے کہا میں بولی ok سر میں کوشش کروں گی کہ آپ کے کام آسکوں میں ان کی بات سن کر تھوڑا شرمندہ  تھی پھر  ان کا کام کرنے کی حامی بھر لی لیکن یہ کام آج ہی کرنا ہو گا اس نے مجھ سے کہا جس پر میرے دل میں ہل چل سی بھی گئی

آج تو مشکل ہے کسی کو ڈھونڈ نا اگر آپ بر اناما نے  تو میں آپکا پانی اپنے ہاتھوں سے نکال دوں میں نے اس کو تجویز دی

اگر تم کو برا نہ لگے تو ٹھیک ہے اس نے کہا

برا کیوں لگے گا آپ میرے دوست ہیں میں نے اس سے کہا

ٹھیک ہے ڈور کولاک کر دو ایسا نہ ہو کہ کوئی آجائے اور تمہاری بدنامی ہو اس نے کہا جس پر میں نے اٹھ کر دروازہ بند کیا اور اس کے پاس آگئی اور بلکل اسکے لنڈ کے سامنے بیٹھ گئی انکا موٹالنڈ ہارڈ نہیں تھا میں نے جب اس کو ہاتھ لگانا سٹارٹ کیا تو وہ بھی کھڑا ہونے لگا جب فل کھڑا ہوا تو ایک موٹے ڈنڈے کی طرح لگ رہا تھا انکا لنڈ آٹھ انچ تک تھا اور میرے شوہر سے کافی بڑا تھا میں نے اپنے ہاتھ میں اپنی تھوک لگائی اور ان کی مٹھ مارنے لگی ان کے منہ سے آوازیں نکلنے لگی اور اور سونی تم بہت اچھی ہو تم نے میرے لنڈ کی آگ کو بجھانے کی کوشش کی یہاں میری چوت بھی ایسے لنڈ کو دیکھ کر گیلی ہو چکی تھی میرے بوبز تن چکے تھے میں اپنے ہاتھ میں اس گرم لنڈ کو پیار سے مسل رہی تھی مجھ کوبھی مزہ آرہا تھا سات مہینوں بعد میں نے لنڈ کو ہاتھ میں لیا تھا سونی تم نے کسی سے چدوایا ہے کبھی اس نے آنکھیں بند کر کے اپنا سر کرسی کی ٹیک سے لگاتے ہوئے مجھ سے پوچھا

ہاں میں نے جواب دیا کس سے

اپنے شوہر سے۔۔۔۔

کسی اور سے چدائی کرانے کا بھی موقع ملا

نہیں میں نے مٹھ مارتے ہوئے ان کی طرف دیکھے بغیر ہی سر کو ہلاتے ہوئے جواب دیا کیا تم لنڈ منہ میں لے چکی ہو اس نے اب اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھنا شروع کر دیا جبکہ میں اس کے لن کو اپنے ہاتھوں سے مل رہی تھی اور میری نگاہیں بدستور نیچی تھی ہاں میں نے شرماتے ہوئے جواب دیا میر الونا پلیز اپنے منہ میں اس نے کہا

میں نے ان کا لنڈ کو چوم لیا اور پھر منہ میں لے لیا میں فل سیکس میں ڈوب چکی تھی اس کا لنڈ منہ میں پور انہیں جار ہا تھا لیکن میں تیزی سے چوس رہی تھی انہوں نے میرا سر پکڑا ہوا تھا اور آگے پیچھے کر رہے تھے  میرے منہ کو چودر ہے تھے پانچ منٹ میں وہ میرے منہ میں ہی فارغ

ہو گئے 

 ان کی منی کو منہ میں لیا اور پی گئی وہ بھی خوش تھے پھر میں اٹھی واشروم میں جا کر کلی کی منہ صاف کیا اور باہر آگئی اب بہت بہت دیر ہوگئی ہے چلو چلتے ہیں اس نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا اور پھر انہوں نے مجھے 2000 روپے دیتے اور بولے یہ رکھ لو تو

یہ کس لئے میں نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

کچھ نہیں اپنے لئے کچھ چیزیں لے لینا انہوں نے میری مٹھی کو رہاتے ہوئے کہا

میں کوئی بازاری نہیں سر! دوست ہوں میں نے ان سے کہا

میں بھی تم کو دوست سمجھتا ہوں بازاری نہیں کبھی تم میں اپنی خوشی سے دے رہا ہوں میری طرف سے ان پیسوں کا کوئی گفٹ لے لینا انہوں

نے کہا لیکن میں نے ان کے ہاتھ میں نوٹ تھمادیے

میں زیر دستی بھی دے سکتا ہوں اس نے مسکراتے ہوئے کہا

میں  بولی دیدو تو وہ ایک دم میرے قریب آئے اور اوپر سے میری قمیص میں ہاتھ ڈال کر نوٹ میرے بریزیئیر میں رکھ دیئے اور ہلکے سے میری چھاتی کو دبا دیا اور میرے منہ سے سسکاری نکلی اور پھر اس نے ہاتھ نکال دیا پھر ہم آفس سے نکل آئے اس نے مجھے گھر ڈراپ کیا میں آج بہت خوش تھی کہ آج میرے جسم کو کسی نے پیار سے چھوا تھارات کو سوئی تو خواب میں کئی بار ان کے لنڈ کو دیکھا اور اپنی چوت چدوائی ان سے اگلے دن آفس جاتے ہوئے میں نے لان کا سوٹ پہنا میں نے رات میں ہی سوچ لیا تھا کہ میں ایک بار تو چد واؤں کی فراز سے لان کے سوٹ میں میراجسم نظر آتا تھا چونکہ ہمارے کیبن میں کوئی کم ہی آتا تھاتو مجھے اسکوجسم دکھانے میں کسی کا ڈر بھی خاص نہیں تھا آفس پہنچ کر میں کیبن میں گئی تو فراز نہیں آئے تھے میں واش روم گئی اور برا کو اتار دیا اب تو میرے ممے صاف نظر آنے لگے تھے مجھے کو ایئر کنڈیشن میں اس طرح بہت مزہ آرہا تھا پھر فراز بھی آگئے ہم کام کرتے رہے انکی نظر میرے مموں پر تھی مجھ کو بہت مزہ آرہا تھا پھر میرے گلے سے دوپٹہ سرک گیا تو میں نے صحیح نہیں کیا وہ کام چھوڑ کر میرے مموں کو دیکھنے لگے میں نے انکو دیکھ کر پوچھا کیا دیکھ ہے میں سر تو وہ بولے تمہارے مموں کو کیا ممے ہیں تمہارے میں ہنس دی پھر ہم نے کام کیا اور جاتے وقت میں نے پر پہن لی پھر میرا معمول بن گیا کہ میں کیبن میں بغیر برا کام کرتی پھر ایک دن ہفتے کا دن تھا لیچ کے بعد سر بولے سونیا ایک کام بولوں تم کرو گی میں بولی ہاں سرکیوں نہیں تو انہوں نے بولا مجھے ایک چیز دیکھنی ہے کیا تم دکھاؤ گی میں بولی کیا لکھنا چاہتے ہیں سر تو وہ بولے تمہاری خوبصورت اور نازک چوت کو دیکھنا چاہوں گا کیا تم دیکھا سکتی ہو میں بھی یہ چاہتی تھی

 لیکن میں بولی سر وہ صرف میرے شوہر نے دیکھی ہے میں سوچوں گی شام تیک لیکن دیر سے جائیں گے وہ بولے ٹھیک ہے ہم پھر سے کام میں لگ گئے میں دو تین بارا نکا لنڈ دیکھنے گئی پھر فراز پانچ بجے ایک میٹنگ میں گئے میں نے گھر ساس کو فون کیا کہ آج میں ایک سہیلی کی شادی میں جاؤں گی اور رات کو نہیں آؤں گی چھ بجے کے قریب فراز آئے آفس کے سب دور کر چلے گئے تھے فراز نے چپراسی کو بھی میرے کہنے پر چھٹی دی پھر کیبن آئے مجھ سے پوچھا کیا سوچا میں نے بولا سر میرے جسم کو شوہر کے سوا کسی نے نہیں دیکھا لیکن آپ میرے دوست ہو آپ کو انکار نہیں لیکن مجھے کیا ملے گاوہ بولے جو تم چاہو میں بولی دکھانے کے بعد بتاؤں گی پھر میں نے انکوانکی کرسی پر بیٹھنے کا بولا وہ جاکر بیٹھ گئے اور میں نے اپنی قمیض اتار دی پھر شلوار کالا سٹک نیچے کر دیا اور پینٹی بھی اتار دی اور جاکر ان کی ٹیبل پر بیٹھ گئی وہ میری چوت کو دیکھ کر جیسے سکتے میں آگیا اور بولا سونی تم واقعی شادی شدہ ہو

میں بولی ہاں سر

اس کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ تم کنواری ہو انہوں نے میری چوت کی طرف انگلی کرتے ہوئے کہا

سر آٹھ ماہ سے شوہر سے نہیں ملی میں نے جواب دیا

چھونے کی اجازت ہے اس نے مجھ سے کہا 

ہاں سر آپ اس کو چوم بھی سکتے ہو میں نے اس کو جواب دیا

میرا جواب سن کر میری چوت کے دانے کو ہلکا سا مسلامیری چوت ایک دم گیلی ہوگئی پھر اس نے میری چوت پر اپنی زبان لگائی میں مدہوش تھی اس نے پھر بولا میں اس سے زیادہ کر سکتا ہوں اس نے اپنا منہ او پر کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا

نہیں سربس یہیں تک میں اس کو ستانے کے موڈ میں تھی میں تمہاری چوت گانڈ اور مموں کی فوٹو لینا چاہتا ہوں اس نے کہا

سر میں بد نام نہیں ہونا چاہتی میں نے سر انکار میں ہلاتے ہوئے کہا

میں تمہارے چہرے کو نہیں لاؤں گا تم خود دیکھ لیا اس نے کہا جس پر میں نے ہاں کر دی اور پھر انہوں نے اپنا ڈیجیٹل کیمرا نکالا اور میری ہرزاویے سے فوٹو لی ٹیبل پر کرسی پر نیچے قالین پر کبھی اپنے لنڈ کو میرے مموں پر رکھ کر پھر  بولا سونی اب چلنا چاہیے

 میں نے کپڑے پہنے پھر ہم باہر نکلے گاڑی میں بیٹھے میں نے اس کو بولا سر آپ مجھ کو کافی پلائیں گے کیا وہ بولے کیوں نہیں پھر وہ بولے تم آفس سے باہر مجھے صرف فراز بولو کیوں کہ با ہر ہم دوست ہیں میں بولی ٹھیک ہے فراز پھر ہم کافی پینے روانہ ہو گئے

تم بہت خوبصورت ہو  تمہار ا جسم بہت لاجواب ہے اس نے راستے میں مجھ سے کہا۔۔۔۔۔۔ تھینک یوسر میں نے شرماتے ہوئے کہا لگتا ہی نہیں کہ تم شادی شد ہ ہو ایک دم کنواری چوت کی مالکن ہو اس نے پھر سے میری چوت کی تعریف کی جس پر میں پھولے نہیں سمار ہی تھی جی چا ہ ر ہا تھا کہ تم کو چود دوں اس نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھ کر پھر کہا

تو چو دا کیوں نہیں میں نے بھی اس کو جواب دیا

 اب میں مزید تہذیب کے دائرے میں نہیں رہ سکتی تھی تم راضی نہیں تھی اور میں زیادتی کر کے اپنی ایک اچھی خوبصورت اور سیکسی دوست کو کھونا نہیں چاہتا اس نے مجھ سے کہا

اگر تم چود بھی دیتے تو میں کچھ نہیں کہتی تم کو کیا تم مجھے کو چودنا چاہتے ہو تو ابھی بتا دو میں نے اس سے کہا

ہاں اس نے جواب دیا لیکن مجھے ایک بات سے ڈر لگتا ہے کہ تمہار اموٹا اور لمبائنڈ مجھے زخمی نہ کر دے میری بات پر اس نے قہتہا لگایا اور بولامر نہیں جاؤ گی تم پھر میں نے پوچھا کہ کتنی عورتوں سے سیکس کیا ہے اب تک بولا چار سے پھر اپنے سب کے نام بتائے میں نے پوچھا فضیلہ بھا بھی سے نہیں کیا؟ 

تو بولا نہیں وہ افروز سے سیٹ تھی اسکو ننگاتو دیکھا بہت بار لیکن اس نے چودنے نہیں دیا پھر ہم کافی شاپ گئے وہاں کافی پی پھر جب باہر نکلے

 تو اس نے گاڑی میں بیٹھ کر بولا کیا تم راضی ہو مجھ سے چدوانے کے لئے میں آرام سے کروں گا میں بولی کہاں چودو گے اس نے بولا آفس۔۔۔۔۔ میں بولی اس کے سوا کوئی جگہ ہے کیا بولا ہاں میرے دوست کا فلیٹ ہے میں بولی کوئی اور جگہ اس نے بولا کسی ہوٹل میں میں نے کہا یہ ٹھیک رہیگا اس نے بولا پھر کب کا موڈ ہے میں بولی آج ساری رات تو بولا گھر میں کیا بولوگی میں نے بولا وہاں میں پہلے ہی بتا چکی  ہوں ایک دوست کی شادی کا۔۔۔۔۔۔

 بولے کب بولا میں بولی جب آپ میٹنگ میں تھے میں نے آج رات تمہارے ساتھ رہنے کا سوچ لیا تھا، تو بولے بہت تیز چیز ہو یار تم واقعی میری دوست ہو پھر میں نے بولا فر از تم مجھے میرے گھر لے چلو میں وہاں ڈریس لوں گی تم رات نو بجے مجھ کو لینے آجاتا وہ بولے ٹھیک ہے پھر وہ مجھے میرے گھر چھوڑنے لے گئے گھر کے سامنے اس نے مجھے اتارا جب میں اتر رہی تھی تو اس نے میری گانڈ کو ہلکا سے دبایا میں نے ہنس کر کہا کیا کر رہے ہو تو وہ بولا آج تو میں مالک ہوں اس جسم کا میں نے کار کا دروازہ بند کیا اور گھر چلی گئی گھر میں ساس اور سسر تھے ساس نے مسکرا کر خوش آمدید کہا بولی بتاتم شادی میں نہیں گئی میں بولی اماں دفتر میں کام بہت تھا دیر ہوگئی اب میں میک اپ کر کے جاؤں گی تو سر بولے ساس سے بیگم یہ ہماری بہو نہیں بلکہ بیٹا ہے تم بہو کے لئے چائے بناؤ جب تک میری بٹیا تیار ہو جائے اسکی تھکن بھی اتر جائے

 میں نے اپنا گرین رنگ کا سوٹ نکالا پھر واشروم گئی اپنے کپڑے اتارے پھر اپنی چوت کے بال یو کریم سے صاف کئے پھر نہانے کے بعد میں نے پینٹی پہنی اور ایسے ہی نکل آئی کیونکہ میرے کمرے میں ساس کے سواہ کوئی نہیں آتا تھا اور مجھے کسی کا ڈر نہیں تھا میں میک اپ کرنے لگی تو ساس چائے لیکر آگئی اس نے مجھ کو اکثر تیار ہوتے دیکھا تھا جب میں آفس جانے کے لئے تیار ہوتی تو مجھے ان سے کوئی ڈر بھی نہیں تھا پھر ساس آئی اور بولی بیٹا میک اپ میں کردوں میں بولی نہیں اماں میں کرلوں گی تو بولی نہیں بیٹا تم تھکی ہوئی ہو میں اپنی بیٹی کو ایسا تیار کروں گی کہ سب میں خوبصورت نظر آؤ گی پھر اس نے مجھے میک اپ کیا مجھے ایسا تیار کیا جیسے میں دلہن ہوں پھر میں نے چائے پی اور جسم پر باڈی سپرے کیا پھر کپڑے پہن لئے پھر اماں نے مجھے جیولری پہنے کا بولا میں بولی اماں بس ٹھیک ہے ایسے ہی تو اماں بولی نہیں پہنو تم میں نے جیولری نکالی اور پہن لی میں دل میں سوچ رہی تھی کہ اماں بھی کتنی سیدھی سادی ہیں کہ اپنی بہو کو چدوانے کے لئے تیار کرہی ہیں 

پھر اماں چلی گئیں میں نے فراز کو فون کیا اور بولا ہمارے فلیٹوں سے کچھ آگے گاڑی کھڑی کرو میں آتی ہوں فراز نے بولا میں مسڈ کال دوں گا تم آجانا پھر میں ابو کے

پاس چلی گئی انہوں نے دیکھ کر بولا میری بیٹی تو آج بہت خوبصورت لگ رہی ہے پھر نے کچھ باتیں کی دس منٹ کے بعد فراز کی مسڈ کال آئی تو میں نے ان سے اجازت لی اور کہا میری دوست کا بھائی لینے آگیا ہے ابو نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعادی کہ تم اپنے مقصد میں ہمیشہ کامیاب رہو اماں نے خدا حافظ بولا تو میں گھر سے نکل آئی فلیٹوں سے کچھ دور فر از میرے انتظار میں تھا میں اسکی گاڑی میں بیٹھی تو ہم روانہ ہوئے

 فراز نے مجھے کہا قیامت لگ رہی ہو کیا آج مارنے کا ارادہ ہے مجھ کومیں نے مسکرا کر کہا  کہیں مجھ کو نہ ماردو بولا دیکھتے ہیں

 پھر ہم نے ایک جگہ رک کر کھانا کھایا سب لوگ مجھ کو گھور گھور کر دیکھتے فراز نے کہا یار تم سے سب انسپائر ہیں پھر میں بولی رات کہاں گزاریں گے تو فراز بولا میرے دل میں پھر ہم  ہوٹل پھر ہم وہاں گئے میں پہلی بار یہاں آئی تھی 

فراز نے کاونٹر سے چابی لی چونکہ ہمارے پاس کوئی سامان نہیں تھا اس لئے ہم اکیلے ہی روم میں چلے گئے روم کیا تھا  ایک خوبصرت ہال تھا میں نے فراز سے پوچھا کہ یہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے کہ کراچی کے رہنے والے ہیں اور رات یہاں گزاریں گے تو وہ بولا جان یہ ہوٹل بنے ہی اس کام کے لئے ہیں پھر اس نے دو بیر کا آرڈر دیا ہم باتیں کر رہے  تھے ہمارے لئے بیر آگئی پھر اس نے گلاس میں ڈالی

 اور بولا  مل کر پیتے ہیں میں اپنے منہ میں ڈالوں گا اور تم پیوگی پھر تم ڈالو گی تو میں پیوں گا اس دوران پینے والا دوسرے کے جسم کو بھی ہاتھ لگائے گا 

میں بولی ٹھیک ہے اس نے اپنی قمیض اتاری اور میرے گلے پر ایک موٹی پلاسٹک شیٹ ڈال دی پھر اس نے میرے منہ میں گلاس لگایا اور میں نے منہ میں ایک گھینٹ لیا تو اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ لگا لئے اور بیر چوسنے لگا اور اس کا ہاتھ میری چھاتیوں پر رینگ رہا تھا یھاں تک کہ سب بیر کو چوس لیا پھر اس نے گھونٹ بھرا اور میں نے ہونٹوں سے ہونٹ ملائے اور اسکے لنڈ پر ہاتھ رکھ کر اسکو مسلنے لگی اور ساری بیر چوس لی اس طرح تین بار کیا ہم نے

 میں نے ہر بار اسکے لنڈ کو ہاتھ لگایا کیونکہ میرے پاس یہی آپشن تھا لیکن اس نے میری چھاتیوں گانڈ اور چوت سے انصاف کیا پھر میں بیڈ پر لٹ گئی تو فراز آیا میرے اوپر اور میرے سے پوچھا کیا میں تم کو آج رات ہر طرح سے کھل کر چود سکتا ہوں میں بولی نہیں میں یہاں تمھاری بہن بنے آئی ہوں تو اس نے میری جیولری اتار دی میرے بوبز پر ہاتھ رکھا اور دبانے لگے اور میری گردن پر چومنے لگے 

میں اپنی بانہوں میں بھر لیا اسکو پھر اس نے میری قمیض کو اوپر کھینچنا شروع کیا میرے پیٹ کو چومنا شروع کیا اور آہستہ آھتہ میری قمیض اتار نے لگا اب میں برا میں تھی اس نے قمیض اتار دی تھی اور برا کے اوپر سے میرے مموں کو چاٹنے لگا میں بھی آٹھ مہینوں سے چدائی کی پیاسی تھی میری چوت گیلی ہورہی تھی پھر اس نے میرے مموں کو برا سے آزاد کیا میرے نپلوں کو خوب چوسنے لگا میں بھی اپنی تمام مستیوں میں تھی میرے منہ سے آوارہ آو میری کی کی کی جاااں کی آوازیں نکل رہی تھیں

 میں بے قابوسی ہورہی تھی پھر اس نے میری شلوار میں ہاتھ ڈال دیا اور میری شلوار کو اتارنے لگے پھر مری پینٹی کے اوپر سے میری چوت کو رگڑنے لگے میری چوت پانی پانی ہوگئی ہی اور پینٹی گیلی تھی تو اس نے اس پر زبان پھیری اور بولا جان کیا مزیدار پانی ہے تیری چوت کا پھر اس نے میری برا اتار دی میری ٹانگیں کھول کر بولا تم کنواری ہو کیوں کہ تمہاری چوت کے ہونٹ اندر کی طرف ہیں اور صرف دانہ نظر آرہا ہے اسنے میری چوت کے دانے کو مسلنا شروع کیا میری سسکاریاں بڑھنے لگی پھر اپنے اپنے منہ کومیری چوت سے لگا دیا اور بہت مزے سے چاٹنے لگا اور بھی میرے دانے کو چوستا چھ سات منٹ چاہنے کے بعد میرے جسم نے اکڑنا شروع کیا میں چھوٹنے والی تھی میں بولی جالاں آہ آہ میں فارغ ہورہی ہوں اور تیز چوسو آہ آہ آہ اف ہوئی آآآآہ میں فارغ ہوئی تو اسنے میری

ساری چوت سے پانی کو چاٹ لیا پھر وہ میرے قریب آکر لیٹ گیا اور میرے ہونٹوں کو کس کرنے لگا اس کے ہونٹوں پر میرا پانی لگا ہوا تھا جو میں نے اسکے ہونٹوں سے چوس لی پھر وہ بولا سونی تم بھی کچھ کرو میں اٹھی اور باتھ روم گئی پیشاب کیا اور چوت کو دھویا پھر سے آگئی میں نے اسکے بالوں سے بھرے سینے کو چوما اور چومتے چومتے نیچے آنے لگی پھر میں نے اسکی شلوار کا ناڑا اپنے منہ میں لیا اور کہنے لگی اور اسکی شلوار کو اتار دیا اسکا آٹھ انچ سے بڑا اور تین انچ موٹا لنڈ نکل آیا میں نے اس لنڈ کو منہ میں لیا اور چوسنے لگی اس کے منہ سے آواز نکلنے لگی وہ سوئی تم اچھی ہو پیاری ہوتم کو میرا کتنا خیال ہے میں نے اپنی طاقت سے اسکو لالی پاپ کی طرح چوسا پھر وہ بولاسوٹی تم چدنے کے لئے تیار ہو میں بولی ہاں جان لیکن مجھے آہستہ سے چود نا میں ڈر رہی ہوں کہ مجھے بہت دردنا ہو وہ بولا بے فکر ر ہو پھر اسنے مجھے اٹھایا اور ہونٹوں پر کسنگ کرنے لگا اسکا سانپ جیسا لنڈ میری چوت کو ٹچ ہورہا تھا پھر ان نے مجھے کولٹایا اور اپنے لنڈ پر کنڈم چڑانے لگا میں بولی جان ایسے ہی چو دو پھر وہ میرے اوپر آگیا اور میری ٹانگیں کھول دیں اور میری چوت پر اپنا ٹو پر رکھا اور آرام سے اندر کرنے لگا پھر اسکا لنڈ کچھ اندرگیا مجھے تکلیف ہورہی تھی اسکالنڈ مشکل سے اندر جارہا تھا تو ایک دم اس نے زور سے سارالنڈ چوت میں داخل کیا

اوئی ماں مرگئی سی سی کی ہی۔۔۔۔۔۔ میری چیخ نکل گئی اور میں میری آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ملائے اور ہاتھ سے میری چھاتیوں کو سہلانے لگا کچھ دیر بعد مجھ کوبھی مزہ آنے لگا پھر وہ بولا سونی جان اب تو در دنہیں ہور ہائیں بولی نہیں جان من اب تو مزہ آرہا ہے تھوڑا تیز چودو تو اس نے اپنی سپیڈ تیز کر لی میرے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی میں سمجھو ہواؤں میں تھی اسکا لنڈ بہت تیزی سے مجھ کو چودرہا تھا ہم دونوں پینے میں بھیگ چکے تھے اور پچک پچک کی آوازوں سے کمرہ گونج رہا تھا میں آہ چودو اور زور سے چودو میری چوت کی پیاس بجھا دو کہ رہی تھی وہ خاموشی سے میری چوت کا مزہ اٹھارہا تھاوہ میری چھاتیوں کو خوب دربار ہا تھا پھر وہ بولا سونی جب تم نے آفس میں مجھے چوت دیکھی تو ہلکے بال تھے اب صاف ہو میں بولی جان میں تم کو اچھا تحفہ دینا چاہتی تھی وہ بولاتم واقعی اچھی دوست ہو جان اب تو میرا جسم پھر سے اکڑنے لگا میں بولی جان میں پھوٹنے والی ہوں وہ بولے روکو ساتھ چھوٹتے ہیں پھر وہ اور تیز ہوئے اور میں اور وہ ایک ساتھ فارغ ہوتے اسکی گرم منی نے اندر سے میری آگ کو بجھا دیا پھر ا سکا لنڈ سکڑنے لگا تو اپنے لنڈ نکال دیا اور میرے قریب لیٹ گیا میں نے جب چوت کی طرف دیکھا تو اس پر خون لگا تھا پھر کچھ دیر بعد ہم نے پیشاب کیا اور فراز نے کچھ خانے کا آرڈر دیا میں نے کپڑے پہن لئے پھر کھانا آیا ہم نے پھر سے کھایا پھر فراز نے کہا سونی کیا ہم ہمیشہ

ایسے دوست رہیں گے میں بولی ہاں اس کے بعد ہمارا پھر سے سیکس راؤنڈ شروع ہوا اور اس نے میرے کپڑے اتارے سونی اب میں گانڈ ماروں گا اس نے کہا میں بولی میں مرجاؤں گی میں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا حالانکہ میں آج اس کے ساتھ ہر قسم کا مزہ لینا چاہتی تھی پلیز جان میں کریم لگا کر کروں گا اس نے میری منت کی جس پر میں نے آمادگی ظاہر کر دی

جس پر اس نے اپنی جیب سے کریم نکالی اور میری گانڈ پر لگی پہلی ایک انگلی ڈالی اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا پھر اس نے مجھ کو گھوڑی بنایا اور اپنے لنڈ کو میری گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور میری کنواری گانڈ میں داخل کر دیا میری گانڈ میں در دکی ایک لہر سے اٹھی اور میں بے چین سی

ہوئی لیکن وہ نہیں رکا اور تیز تیز جھٹکے مار رہا تھا اسکا ایک ہاتھ میری چوت کو سہلا رہا تھا جس سے مجھے مزہ آرہا تھا پھر مجھے گانڈ میں بھی مزہ آنے لگا پھر اس نے مجھے لٹا دیا اور میرے ہاتوں کے بیچ میری ٹانگوں کو پھنسا کر گدی کے پیچھے پڑنے کا کہا جب میں نے کیا تو میری گانڈ اور چوت اسکے سامنے کھل سے گئی اس نے پھر سے میری گانڈ میں لنڈ ڈالا اور زورزور سے میری گانڈ کو چودتا رہا اور کبھی بھی تھپڑ میری گانڈ پر مارتا پھر وہ میری گانڈ میں ہی فارغ ہوا اپنی منی سے میری گانڈ بھر دی پھر اسکا لنڈ چھوٹا ہوتا گیا جب میں نے گانڈ کے سوراخ کو ہاتھ لگایا تو گانڈ پوری کھل چکی تھی میں نے آئنے میں دیکھا تو کافی گول اور بڑا ہول تھا وہ بولا کیا ہوا میں بولی جان تم نے تو پھاڑ دی ہے میری گانڈ تو وہ ہنے لگا اور بولا سونی تم گانڈ بھی بن گئی ہو ۔ ہم بہت تھک چکے تھے اور ہم دونو نگلے ہی سو گئے صبح ہم دیر سے اٹھے میں نہانے گئی تو اس نے ناشتہ منگوایا ناشتے کے بعد ہم ہوٹل سے نکلے اس کی مجھے 3 دن کی چھٹی دی اور مجھے گھر ڈراپ کیا

Comments

Popular posts from this blog

بہن نے بھائی سے چدوایا

کلاس فیلو کی چدائی کی

کچی کلی New Episode