کچی کلی New Episode
اس وقت میری عمر****برس تھی میں نہ صرف اپنی فیملی بلکہ سکول میں بھی سب سے پیاری لڑکی سمجھی جاتی تھی میرے ابو جنوبی کوریا میں کافی عرصے سے کام کرتے تھے میرا ماموں اور انکی اہلیہ ہمارے گھر رہتے تھے میرے ماموں کا کوئی خاص کاروبار نہیں تھا اور انکی اولاد بھی نہ ہو سکی تھی ماموں مجھے موٹرسائیکل پر سکول پہنچاتے اور وہاں سے لے جانے کے ساتھ گھر کے دیگر کام بھی سرانجام دیتے تھے یہ مارچ 2016کا آخری ہفتہ تھا جب میرے والد کچھ ماہ کے لئے گھر آئے تھے اور میرے لئے سامسنگ کا ایک سل فون لائے تھے میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی وہ میرا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے ابو کے موبائل لانے کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ میسنجر یا وائس ایپ پر کال کے ذریعے ہم سے رابطے میں رہیں گے ابو نے مجھے میسنجر اور واٹس ایپ پر کال کرنا سکھا دیا تھا میں گھر آ کر موبائل کو زیادہ وقت دینے لگی تھی ابو کی جہاں موجودگی تک میں گیمز تک محدود رہی تھی اور ان کے جانے کے بعد میں فیسبک پر آگے بڑھنے لگی تھی سکول میں شکیلہ میری سب سے اچھی دوست تھی وہ بھی فیسبک کے ساتھ واٹس ایپ بھی استعمال کرتی تھی اور مجھے بھی جہاں بہت کچھ سکھا رہی تھی میرے ساتھ بہت سے انجان فرینڈز ایڈ ہو گئے تھے اور سیکنڑوں فرینڈز کے ساتھ شکیلہ اور سکول کی چند لڑکیوں کے ساتھ بلال بھی ایڈ ہو گیا تھا بلال ہمارے سکول میں کلاس 10 میں تھا اس کی شکیلہ سے بھی دوستی تھی اور شاید شکیلہ کی نشاندہی پر ہی اس نے مجھے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی تھی کیونکہ میری آئی ڈی فرضی نام سے تھی اور بلال کبھی نہ جان پاتا کچھ عرصہ قبل تک بلال نے مجھ پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی اور میرے مسلسل رد کرنے پر وہ کچھ عرصے سے دوسری لڑکیوں کی طرف متوجہ ہو گیا تھا سکول میں اس کے بہت سی لڑکیوں کے ساتھ دوستی تھی میں نے کبھی کسی کو سیکس کرتے یا سیکس موویز کبھی نہیں دیکھی تھی شکیلہ میرے سے شاید چھ ماہ چھوٹی تھی اور سمارٹ تھی جبکہ میرا جسم بھرا بھرا تھا شکیلہ کچھ عرصے سے مجھے بلال کے ساتھ سیکس کے مزے لینے کی داستانیں سناتی رہی تھی مجھ میں تھوڑا شوق پیدا ہو گیا تھا لیکن کسی خوف کی وجہ میں اس خیال کو ذہن سے نکال چکی تھی شکیلہ نے مجھے ایک دو بار بولا کہ آپ مزہ لینا چاہو تو میں بلال سے بات کر لیتی لیکن میں نے اسے منع کر دیا رات دیر تک میں مسینجر پر شکیلہ سے چیٹنگ کرتی رہتی تھی کل سنڈے تھا اور میں امی سے دو فٹ کے فاصلے پر بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی میں نے ہینڈ فری لگایا ہوا تھا اور شکیلہ کا وائس میسج سننے کے بعد میں اس کو میسج ٹائپ کر رہی تھی امی کے ساتھ سونے کی وجہ سے میں اسے وائس نہیں کر رہی تھی مجھے نیند آنے لگی تھی اور شکیلہ نے بھی کہا کہ میں سونے لگی ہوں ایک مزے کی چیز سنڈ کر رہی ہوں اسے دیکھ کر آپ سو جانا ۔۔۔ آنے والی ویڈیو میں ایک بلیک اور جسامت میں کافی بڑا ٹیچر کلاس میں بوائز گرلز کو پڑھا رہا تھا پھر کلاس کے تمام سٹوڈنٹ چھٹی ہونے پر کلاس سے جانے لگے ٹیچر بھی اپنا سامان اٹھانے لگا تھا کلاس روم کی آخری کرسیوں پر ایک لڑکی اپنا سامان سنبھال رہی تھی جبکہ باقی سٹوڈنٹ کلاس سے جا چکے تھے لڑکی جیسے کلاس روم سے نکلنے لگی تھی اس بلیک ٹیچر کی نظر اس کے مٹکتے ہپس پر پڑی اور پھر اس نے لڑکی کو آواز دے کر بلا لیا تھا اور اس سے کوئی بک نکالنے کا بولا رفتہ رفتہ ٹیچر اس کی ران پر مساج کرنے کے بعد بڑھنے لگا تھا وہ کسنگ کرنے لگا تھا اور میرا دل آواز سے دھڑکتے لگا میں نے اپنا سر اوپر اٹھا کر امی کو دیکھا وہ سو رہی تھی یہ سب میں پہلی بار دیکھ رہی تھی جس پر میری حیرت کے ساتھ میری بےتابی بڑھنے لگی تھی ٹیچر نے اس گوری چھوٹی لڑکی کے سارے کپڑے اتار دئیے تھے اور اسے اپنی ٹیبل پر لٹا دیا تھا ٹیچر ٹیبل کے ساتھ بیٹھ کر اس لڑکی کی ٹانگیں کھولتا ہوا اس کی ببلی پر اپنے ہونٹ رکھ کر اسے چوسنے لگا تھا اور اسی لمحے میں بےقابو ہو چکی تھی میرا بدن لرزنے لگا تھا اور میری ببلی پھٹک پھٹک کرکے اندر باہر ہونے لگی تھی میری آنکھوں کے آگے کچھ لہرا رہا تھا میں کبھی اپنی آنکھیں بند کرتی تو کبھی سر اٹھا کر امی کو دیکھنے لگتی مجھے احساس ہو گیا کہ میرا جسم بری طرح لرز رہا ہے اور شاید امی اٹھ جائے میں نے ایک دم موبائل کو بند کر دیا اور خود کو سنبھالنے لگ گئی لیکن مجھ میں بےتابی بڑھ چکی تھی اس سے آگے ٹیچر کیا کرتا ہے اسی جستجو میں میں نے ایک بار پھر سے موبائل کو لیکر صوفے پر چلی گئی تاکہ میرے لرزنے سے امی نہ اٹھ جائے ۔۔ میں نے ایک بار پھر سے شکیلہ کی سنڈ کی گئی مووی دیکھنی شروع کر دی ٹیچر نے اپنے کپڑے بھی اتار لئے اس کا بڑا کالا ببلو سخت ہو رہا تھا گوری اس کا ببلو اپنے ہاتھوں میں بھر کر کسی میٹھی چیز کی طرح چوسنے لگی تھی میں بےحال ہو چکی تھی میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں روم سے نکل کر اڑتی ہوئی سر امجد کے پاس جا پہنچو مووی میں نظر آنے والی لڑکی کو میں خود اور اس ٹیچر کو سر امجد تصور کر رہی تھی سر امجد بھی اس ٹیچر کی طرح کالے اور بڑی جسامت کے ٹیچر تھے اور وہ ہمیں انگلش پڑھاتے تھے بلیک ٹیچر نے اپنا ببلو گیلا کر کے آرام سے اس چھوٹی گوری لڑکی کے اندر اتار دیا تھا حقیقت میں یہ کیسا مزہ ہو گا جسے دیکھ کر ہی میں اس حال تک پہنچ گئی تھی کہ میں صوفے پر اسی گوری کی طرح لیٹ کر اس کے جیسے اپنی ٹانگیں اٹھا چکی تھی اور اپنی ٹانگوں کو حرکت دے کر اپنے ہپس پر مارنے لگی تھی۔۔۔ مووی کے اینڈ ہونے سے قبل میرا موبائل بیٹری ڈاؤن کا آپشن دیتا آف ہو گیا تھا میں کافی دیر بےجان سی ساکت پڑی رہی میں بھی فوری طور پر ایسا کرنا چاہتی تھی میرے ذہن میں صرف سر امجد کا چہرہ گھول رہا تھا ۔۔ بہت دیر بعد امی نے کروٹ لی اور میں آہستہ سے اٹھ کر موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے واش روم سے ہو کر امی کے ساتھ سو گئی سر امجد کے خیالوں میں جانے کب آنکھ لگ گئی صبح میری آنکھ ایسے کھلی جیسے سر امجد نے مجھے کلاس روم سے نکلتے ہوئے پیچھے سے آواز دی ہو ۔۔۔ میرا بدن ٹوٹ رہا تھا امی روم سے جا چکی تھی میں نے فوراً موبائل اٹھایا اور ایک بار پھر مووی دیکھنے لگی دروازہ کھلنے پر میں نے موبائل کو سائیڈ پر رکھ دیا امی کمرے میں آتی ہوئی بولی نازی خیر تو ہے آج کیوں دیر تک سو رہی ہو پھر امی نے میرے ماتھے پر ہات رکھا اور اوہ ہ ہ ہ میری گڑیا کو تو بخار ہوا ہے ۔۔۔ واقعی مجھے احساس ہوا کہ میرا جسم تپ رہا ہے اور مجھے اپنا جسم ٹوٹا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔ امی نے مجھے بخار کا سیرپ پلا دیا اور آرام کا کہہ کر باہر چلی گئی میں بار بار اس مووی کو دیکھ کر پاگل ہو رہی تھی مجھے آج کا سنڈے بہت بھاری لگ رہا تھا میں چاہتی تھی کہ سکول جاؤں اور کلاس روم سے نکلتے وقت سر امجد مجھے آواز دے کر بلا لے اور اس گوری کی طرح سارا دن ایسا کرتا رہے ۔۔شکیلہ دو بجے کے بعد آن لائن ہو گئی اور بتانے لگی کہ آج گھر والے نہیں تھے اور اپنے گھر کے گارڈ کو لفٹ دیکر اس کے موٹے ببلو کا مزہ لے لیا ہے میں کچھ زیادہ بے چین ہو گئی تھی شکیلہ مجھے انگریز لڑکی لگنے لگی تھی اور میں افسوس کر رہی تھی کہ میں نے شکیلہ کو بلال کے ساتھ سیکس کرنے کی بات پر منع کیوں کیا تھا میں اب شکیلہ سے کیسے کہوں کہ مجھے کرنا ہے میں شکیلہ سے چیٹینگ کرتے ہوئے اس میسج کے انتظار میں تھی کہ شکیلہ بولے کہ ابھی ماموں کے ساتھ میرے گھر آ جاؤ اور ہمارے گارڈ کا مزہ لو ۔۔ گو کہ میں کلاس میں سب سے ذہین لڑکی تھی لیکن آج میں خود کو بے عقل اور شکیلہ کو تیز لڑکی سمجھ رہی تھی رات گئے شکیلہ نے ایک اور مووی سنڈ کر دی تھی میری ببلی گیلری ہونے کے ساتھ مسلسل مچل رہی تھی صبح میں نے وقت سے پہلے سکول کی تیاری کر چکی تھی میرا دل چاہتا تھا کہ میں جاتے ہی سر امجد کو خود بول دوں اور اسے پکڑ لوں ۔۔۔ سکول جا کر میں اپنے ہر ٹیچر کو اس امید پر دیکھ رہی تھی کہ کوئی مجھے اپنے پاس بلا لے گا میں بےتابی سے سر امجد کو دیکھتی تھی اور وہی پہلی سیکس مووی میرے حواس پر چھائی ہوئی تھی۔
کتابوں کے ورق پر وہی مووی چلنے لگتی میرے ہاتھ بےاختیار اپنے چھوٹے بوبز اور ببلی کی طرف چلے جاتے کلس روم کے فرنٹ پر پڑی ٹیچر ٹیبل مجھے اپنے سکون کا مسکن دکھنے لگی تھی میں بہت بے چین تھی سر امجد کو دیکھ میری ببلی۔پھٹک پھٹک کرتی خود بخود اندر باہر ہونے لگتی تھی میرا قد اس وقت چار فٹ تھا اور سر امجد چھ فٹ سے بھی زائد کے تھے اور مجھے سر امجد کے ساتھ مووی والا سین بنتا دیکھائی دے رہا تھا اس وقت میرے بوبز چھوٹے تھے اور میں بریزر نہیں پہنتی تھی آج میں شکیلہ کے بریزر میں بند بوبز اور پیچھے کو نکلے ہپس بہت اچھے لگ رہے تھے شکیلہ مجھے گارڈ سے گزشتہ روز سیکس کرنے کی کہانی سناتی اور مجھے بےتاب کرتی رہی اسے گارڈ کے ساتھ زیادہ مزہ آیا تھا بولتی بلال سے بہت بڑا ہے گارڈ کا اور موٹا بھی ہے میں شکیلہ سے کہنا چاہتی تھی کہ میرا بھی کچھ کرو لیکن میں ایسا کہہ نہیں سکی آخری پریڈ سر امجد کا تھا میں سر جھکا کر اس کی پاورفل باڈی کو دیکھ کر بےتاب ہو رہی تھی شکیلہ کی کہانیاں سننے کے بعد بھی میرا دل بلال کے بجائے سر امجد کی طرف تھا میں اب تک تین موویز دیکھ چکی تھیں جو مجھے شکیلہ سنڈ کر چکی تھی لیکن میرے حواس پر وہی پہلی بلیک ٹیچر والی مووی قابض تھی میرا دھیان سٹڈی کی طرف بالکل نہیں تھا سر امجد کیا بو رہا مجھے معلوم نہیں تھا اس کے انگلش بولتے لب مجھے اپنی ببلی پر کسنگ کرتے محسوس ہو رہے تھے میں اندر باہر ہونے والی اپنی ببلی پر ہاتھ رکھے صرف سر امجد کے ہلتے لب دیکھ رہی تھی ۔۔۔ چھٹی کی گھنٹی بج چکی تھی سب کلاس روم سے چلے گئے تھے میں سامان سمیٹنے میں تاخیر کر رہی تھی سر امجد کرسی پر بیٹھے موبائل پر اپنا انگوٹھا سویپ کر رہے تھے میرا دل آؤاز سے دھڑک رہا تھا مجھے لگا سر امجد وہی مووی دیکھ رہے ہیں میں آہستہ سے قدم اٹھاتی سر کی ٹیبل سے رگڑ کر گزرتی ہوئی ان کو دیکھتی جا رہی تھی وہ سر جھکائے موبائل پر نظریں جمائے اپنی مستی میں مست تھے میں روم سے باہر جانا نہیں چاہتی تھی دروازے کے پاس پہنچی تو سر امجد کے آواز میرے کانوں میں گونجی ۔۔۔۔ نازیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھاگ کر سر کے پآس جا پہنچی ۔۔ جی جی ۔۔سر۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سر امجد حیرت سے سر سے پاؤں تک میرے لرزتے وجود کو دیکھتے بولے ۔۔۔ کیا ہوا نازیہ بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر آپ نے مجھے بلایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر امجد بولے نہیں نازیہ بیٹا ۔۔۔ میں نے نہیں بلایا ۔۔۔ میں نے اپنا سر جھٹکا اور آہستہ سے چلتی باہر آنے لگی سکول سے تقریباً تمام سٹوڈنٹ نکل چکے تھے میں میل ٹیچرز کو غور سے دیکھتی باہر آ گئی تھی میرے ماموں گیٹ کے پاس آ کر چوکیدار سے پوچھ رہے تھے ۔۔ مجھے دیکھتے ہوئے بولے بیٹا آج لیٹ آئی ہو ۔۔۔ طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ کی ۔۔۔۔۔ میں نے اپنا سر جھٹکا اور آہستہ سے بولا بخار ۔۔۔۔۔ شام کو امی مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئی اور مجھ سے موبائل لےکر مجھے سلا دیا صبح میں قدرے فریش ہو چکی تھی امی نے سکول جانے سے منع کیا لیکن میں چلی گئی اگلے دؤ روز میں شکیلہ نے مجھے کچھ اور موویز سنڈ کر دیں میں مکمل طور پر پاگل ہو چکی تھی میرا دل چاہتا تھا میں کسی کو پکڑ لوں اور اس کا ببلو خود سے چوسنے لگوں اور زور سے اپنے اندر اتار دوں ۔۔۔۔۔۔ لیکن مکمل طؤر پر بےبس تھی سر انجد بھی اس کالے انگریز جیسے اچھے ٹیچر ثابت نہیں ہو رہے تھے میں ہر وقت اپنے بوبز اور ببلی کو مسلتی رہتی اور امی مجھے کئی بار ٹوک چکی تھی رات کو شکیلہ نے باتوں باتوں میں کہہ دیا نازیہ میں کل آپ کو بلال سے سیکس کراتی ہوں میں نے فوراً اوکے کہہ دیا پھر پوچھا کچھ ہو گا تو نہیں ۔۔۔بولی کچھ ہوتا اسے کہوں گی آپ کو پیچھے کرے مزا بھی آئے گا اور خطرہ بھی نہیں ہو گا ۔۔۔ میں نے شکیلہ کی سنڈ کی گئی اس مووی کو دیکھا جس میں ایک آدمی لڑکی کو گھوڑی بنا کر پیچھے سے کر رہا تھا میں خود کو بلال کے آگے بنی گھوڑی تصور کرتی مووی دیکھتے ہوئے بیڈ پر گھوڑی بن گئی تھی اور اپنے ہپس اس گوری کی طرح پیچھے کو ہلاتی رہی آج۔مجھے بلال بہت پیارا لگ رہا تھا مووی دیکھنے کے بعد میں نے دیکھا تو بلال کے میسج آئے ہوئے تھے میں نے ہائے کہہ دیا ۔۔۔ بولا شکیلہ نے آپ کا پیغام دے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ میں تو تم کو پہلے ہی کہہ رہا تھا اور تم سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن تم مجھے لفٹ نہیں کرا رہی تھی ہماری چیٹنگ چلنے لگی شکیلہ آف لائن ہو گئی تھی بلال نے مجھے اپنے ببلو کی تصویر سنڈ کر دی اس کا سائز چھوٹا تھا لیکن بہت کیوٹ تھا بالکل گورا ۔۔۔۔ پھر اس نے بھی فرمائش کی کہ میں اپنی ببلی اور بوبز دیکھاؤں ۔۔۔ میں واش روم جا کر بہت سی تصاویر بنا لائی بلال مجھے دیکھ کے پاگل ہو رہا تھا بولا آپ کے ہپس بہت مزے کے ہیں میں آپ کو پیچھے سے کرونگا اور پانی بھی اندر ڈالوں گا تو آپ کے بوبز بھی بڑے ہو جائیں گے ۔۔۔ مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہوتا ہے لیکن میں چاہتی تھی کہ جیسے بھی ہو مجھے وہ جلدی کرے وہ بھرے سکول میں مجھے کہاں کرے گا مجھے معلوم نہیں تھا ہاف ٹائم کے دوران کنٹین میں بلال ایک دروازے سے داخل۔ہوا اور میرے ساتھ شکیلہ کو دیکھتا ہوا دوسرے دروازے سے باہر چلا گیا شکیلہ محھے بولی بس جوس کو رکھ دو آؤ تمہیں رائل جوس پلاتی ہوں میرا جسم لرزنے لگا تھا شکیلہ مجھے واش رومز کی طرف لے گئی واش رومز کی ایک لمبی لائن تھی جس کے درمیان ایک دیوار سے اسے بوائز اور گرلز کے لئے تقسیم کیا گیا تھا شکیلہ مجھے اس آخری واش روم کے پاس لے گئی اس نے ڈراپس والی ایک چھوٹی شیشی مجھے دی جس میں سر پر لگانے والا تیل تھا آہستہ سے بولی اس واش روم میں جاؤ اور کنڈی بند کر دو وہ آ جائے گا اور تیل بلال کو دے دینا ۔۔۔ میں لرزتے بدن کے ساتھ واش روم کا ڈور بند کر کے واش روم کی دیواریں میرے ہاتھوں سے بہت اوپر تھی بس ایک منٹ بعد ہی بوائز واش روم والی سائیڈ سے بلال کے ہاتھ دیوار پر آئے اور پھر اس نے اندر جھانکا اور دیوار پر چڑھ کر نیچے اترنے لگا ہاٹ ٹائم کے شروع کے وقت میں یہاں رش ھوتا تھا اور پھر سب کنٹین کی طرف چلے جاتے تھے بلال نیچے اتر کر مجھے اپنی باہوں میں بھر گیا مجھے سکون ملنے لگا میں نے بھی اسے اپنی باہوں میں بھر لیا بلال کا قد میرے سے تقریباً ایک فٹ بڑا تھا اور وہ 16 سترہ برس کی ایج میں تھا وہ کسنگ کرتے ہوئے میری پیٹھ اپنی طرف پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا بس جلدی کرتے ہیں ٹائم کم ہے ۔۔۔ میں بھی یہی چاہتی تھی اس نے خود میرے ہاتھ سے تیل کی بوتل لے لی اور مجھ جھکا دیا میں نے پانی کے نل کو پکڑ لیا تھا اور ہپس اوپر اٹھا لئے تھے اور یہ سٹائل میں رات کو مووی دیکھ کر سیکھ چکی تھی بلال نے مجھے کھڑا کرتے ہوئے میرے ٹائٹ پاجامے جیسی شلوار کو گھٹنوں تک اتار کے مجھے پھر جھکا گیا اور ہلکی وش وش کی آواز سے میرے ہپس کو کسنگ کرنے لگا پھر وہ کھڑا ہو گیا اور تیل لگاتے ہوئے اپنے ببلو کو میرے ہپس کے درمیانی لکیر میں اتارنےگا گرم ببلو نے میرے پورے وجود میں کرنٹ دوڑا دئیے تھے ببلو کو میرے ہول کے منہ پر رکھا اور میرے ہپس کو پکڑ کر اپنی طرف زور سے کھینچا افففففففففف میرا ہول کٹنےگا تھا میری آواز نکلی تو بلال نے میرے ہپس پر مکا مار کر مجھے چپ رہنے کا اشارہ دیا میں نے اپنا دوپٹہ دونتوں تلے دبا دیا ببلو آگے آ رہا تھا اور میری کیفیت کچھ عجیب ہونے لگی تھی میری آنکھیں اور زبان باہر کو آنے لگے تھے اور میرا ہاتھ تڑپتی ببلی کی طرف چلا گیا تھا شاید وہ احتجاج کر رہی تھی کہ میرا حق اتھے رکھ۔۔۔۔ میں ببلی کو مسلنے لگی تھی مجھے کوئی ہوش نہیں رہا تھا میں رونا چاہتی تھی لیکن دوپٹے کو اپنے دانتوں تلے دبائے صرف خاموش آنسو ٹپکا گئی میرا اندر کٹ چکا تھا بلال نے اپنا جسم میرا ساتھ ٹکرا دیا اور آہستہ سے بولا واو نازی تیری تو بہت ٹائٹ ہے وہ میری قمیض کے اندر سے ہاتھ گزار کر میرے بوبز پر لے آیا اور ببلو کو آہستہ سے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد مجھے اپنے اندر ریشم جیسے احساس کے ساتھ مزہ آنے لگا لیکن میں اپنی ببلی کو مسل رہی تھی بلال میرے بوبز کو کھینچ کر جھٹکے مار رہا تھا میں بھی مووی والی گوری کی طرح اپنے ہپس پیچھے دھکیلنے لگی تھی ۔۔۔ بولا واو تم تو بہت سیکسی ہو آ لو یو ۔۔۔۔کوئی دس منٹ بعد ہاف ٹائم ختم ہونے کی بل بج گئی جس کے ساتھ بلال نے اپنی سپیڈ بڑھا دی تھی اب وہ میرے ہپس کو پکڑ کر ذرا زور سے جھٹکے مار رہا تھا اور ہلکی تالی جیسی آواز مجھے مذید مدہوش کرنے لگی تھی بلال ببلو کو پورا اندر کر کے رک چکا تھا اس کی لمبی سانسوں کی آواز میرے کانوں تک آ رہی تھی ببلو اس وقت ڈنڈے کی طرح سخت ہو چکا تھا اور پھر گرم لاوا میرے اندر گرنے لگا تھا میری ببلی گیلی ہو چکی تھی مجھے بلال کا رک جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا میں خود سے جھٹکے مارتی بولی ۔۔۔کرو۔۔۔ بلال نے اپنا ہاتھ میرے نیچے لے جا کر اپنے بائیں ہاتھ کی درمیانی فنگر میری ببلی کے ہونٹوں میں تیز تیز چلانے لگا تھا چپ چپ چپ کی ہلکی آواز میں میری آنکھیں بند ہونے لگی اور میرا جسم اکڑنے لگا دوپٹہ میرے دانتوں سے نکل گیا بلال نے اپنا دوسرا ہاتھ میرے لبوں پر رکھ کر میری آوازیں بند کر دیں تھی مجھے اب مزا آیا تھا میں سوچ رہی تھی کہ ببلو یہیں آگے ڈالنا تھا ۔۔۔۔ میں نارمل ہونے لگی تو بلال نے اپنا ببلو باہر نکالا لیا اور میری شلوار کو اوپر کرتے اور پینٹ پہن کر پانی کے نل پر پاؤں رکھ کر دیوار پھلانگ گیا میں نے اپنا لباس درست کیا اور دوپٹے سے اپنا پسینہ خشک کرتے جی چاہا رہا تھا کہ میں قہقہے لگاؤں مجھے بہت مزہ آ گیا تھا اور میں پرسکون ہو گئی تھی ۔۔۔۔ میں باہر آنے لگی مجھے اپنے ہپس کے درمیان چپک محسوس ہو رہی تھی اور چلنے میں تھوڑی دشواری بھی لیکن میں خود کو نارمل رکھتے ہوئے کلاس روم کی طرف آ گئی کلس کب کی شروع ھو چکی تھی مس طاہرہ کی ڈانٹ کھانے کے بعد میں نے بک نکال لی تھی اور آج تقریباً ایک ہفتے بعد مجھے بک پر کچھ الفاظ نظر آنے لگے تھے ۔۔۔۔۔ رات کو میں بلال کے میسج کے انتظار میں تھی اس نے آن لائن ہوتے ہی پہلا میسج کیا کہ آج تک میں 25 لڑکیوں کو کر چکا لیکن تیرے جیسا مزہ کسی نے نہیں دیا پھر اس نے مووی سنڈ کی یہ میری مووی تھی جو وہ پیچھے سے بناتا رہا اس وقت مجھے ہوش نہیں تھا مووی دیکھ کر مجھے بھی معلوم ہوا کہ واقعی میں بہت خوبصورت جسم کی مالک ہوں ۔۔۔۔۔۔ بلال بولا پھر کب کرو گی ؟؟ میں نے کہا جیسے تم بولو۔۔۔ بولا کل ؟؟؟ میں نے یس کہہ دیا وہ بہت خوش ہو گیا ۔۔۔ اگلے روز میں واش روم سے ہو خر باہر لان میں کھڑی ہو گئی تیل میں ساتھ لے آئی تھی سب کنٹین کی طرف چلے گئے تو بلال اپنے کلاس روم سے نکل کر ادھر آنے لگا میں جلدی سے واش روم میں چلی گئی کل کی نسبت آج اس نے زیادہ وقر لگایا تھا ببلو بھی آسانی سے اپنا سفر کرتا رہا بلال نے خود ہی انگلی سے ببلی کو مست کرنا شروع کر دیا تھا میں آگے پیچھے مزے کے وادیوں میں تھی اور بلال سے پہلے ڈسچارج ہو گئی اور جیسے بلال نے اپنا لاوا میرے اندر انڈیلا مجھے لگا کہ مجھے اس پانی کی بھی پیاس تڑپا رہی تھی میں پرسکون ہو گئی اور وقت پر کلاس روم آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہفتے میں ہم نے چار بار شاندار سیکس کیا اور مجھے بلال سے محبت ہو گئی تھی کوئی لڑکی اس کی طرف دیکھتی تو مجھے آگ لگ جاتی ۔۔۔۔ ایک ہفتے بعد گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں تھی اور میں بہت روئی تھی ۔۔۔۔ بلال سے دن رات چیٹنگ ہوتی تھی میں دو دن بعد ہی بےقرار ہو گئی تھی کسی جگہ سکون نہیں مل رہا تھا شکیلہ اپنے گارڈ سے ڈیلی سیکس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ پانچ روز بعد میں گھر سے بھاگ جانا چاہتی تھی پچھلا حصہ بہت بےتاب تھا وہ گرم لاوا پینا چاہتا تھا بلال بھی بہت بےتاب تھا اسے بھی مجھ سے پیار ہو گیا تھا اور ہمہ وقت آن لائن ہو کر مجھ سے باتیں کر رہا تھا بلال نے عہد کر لیا تھا کہ وہ شادی صرف مجھ سے کرے گا یہ میرے لئے بہت بڑی خوشخبری تھی کیونکہ اس دنیا میں بلال سب سے عزیز تر تھا اور بلال کے سوا مجھے کچھ نظر نہیں آتا تھا لیکن میرے ساتھ بلال کے بھی بہت سے مسائل تھے اور ہم شادی کر کے محبت کو پروان نہیں چڑھا سکتے تھے ہم دونوں بچے تھے اور جذبات میں آگے بڑھتے جا رہے تھے ہم کسی سے کوئی بات شئیر نہیں کر رہے تھے اور اپنی مرضی کے فیصلوں کی طرف بڑھ رہے تھے ایک روز بلال بولا نازیہ ہم لو میرج کر لیتے ہیں میں نے پوچھا تو بولا بس جس دن میرے ہاتھ زیادہ پیسے لگ گئے ہم دونوں یہاں سے بھاگ جائیں گے ۔۔ بہت دور گاؤں میں میرا دوست رہتا ہے بس وہاں جا کر شادی کرکے اپنی الگ سی زندگی گزاریں گے میں نے بلا سوچے سمجھے اسے ہاں کر دی کراچی جیسے بڑے شہر میں زندگی گزارتے ہوئے میں اس شہر سے باہر کبھی نہیں گئی تھی اور ٹی وی ڈراموں میں گاؤں کی زندگی مجھے بہت اچھی لگتی تھی۔
اگلے ایک ہفتے تک بلال مجھے ایسی باتیں بتاتا رہا جو بہت آسان سا کام تھا اور ہم زندگی بھر شہر سے دور محبت بھری زندگی گزار سکتے تھے اور میں مکمل طور پر تیار ہو چکی تھی اس گھر کی کوئی چیز حتیٰ کہ امی ابو بھی مجھے اچھے نہیں لگتے تھے مجھے بلال سے آخری بار سیکس کئے 15:روز سے زیادہ گزر چکے تھے اور میں بہت بےتاب تھی ابھی تک میری ببلی ورجن تھی اور ببلو میرے پیچھے ڈالنے کے ساتھ اپنی انگلی سے میری ببلی کے لبوں کو مسل کر میرا پانی نکال دیتا تھا بلال کا ببلو میرے پیچھے ریشمی احساس دیتے ہوئے جب اپنا لاوا اندر ڈالتا تھا تو مجھے سکون مل جاتا اور میں نہال ہو جاتی تھی اب بہت دنوں سے مجھے اس میں خوراک نہیں ملی تھی اور میں بہت بےچین تھی میں جلد سے جلد بلال کے ساتھ جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ بلال کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے وہ کہتا تھا کہ اتنے پیسے لازمی ہوں کہ ہم اس بستی میں اپنا مکان لے سکیں مکان خریدنے کے علاوہ کیا کرنا ہے اور زندگی کیسے گزاریں گے ہم دونوں کو معلوم نہیں تھا بلال مطمئن تھا کہ اس کا دوست اسد اس کے لئے سب کچھ کرے گا اسد کراچی میں ہی کچھ عرصہ قبل کسی فیکٹری میں جاب کرتا تھا اور بلال کے محلے میں ہی ایک کرانے کے کوارٹر میں رہائش پزیر رہا تھا اب کچھ عرصہ قبل سے وہ گاؤں چلا گیا تھا اور وہیں کوئی کاروبار کرتا تھا ۔۔ میں بے دلی سے گھر کے کاموں میں مصروف تھی الماری سے کچھ سامان نکالتے ہوئے میرا دل ایک دم اچھل پڑا الماری کے دراز میں پڑی ساری رقم میری دسترس میں ہوتی تھی میں نے دراز کھول کے دیکھا اس میں کافی ساری رقم پڑی تھی ابو کوریا سے بھیجتے رہتے تھے اور چند ماہ قبل جب وہ آئے تو بینک سے کرنسی تبدیل کرا کر گھر میں رکھ کے گئے تھے میں بہت مطمئن ہو گئی اور الماری کو بںد کرتے بیڈ روم میں آ گئی تھی میں صوفے پر بیٹھی کافی دیر سوچتی رہی پھر مطمئن ہو گئی کہ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں اور میں اس رقم کو اپنی خوشیوں پر خرچ کر سکتی ہوں بلال بھی تو میری محبت میں اتنا کچھ کر رہا تھا میں نے موبائل اٹھا کر ڈیٹا آن کیا تو بلال کا مسیج فٹ سے سامنے آ گیا ۔۔۔ جانوں میں نے گھر سے ایک لاکھ روپے چرا لئے ہیں ۔۔۔ بس کچھ اور ہاتھ مار لوں تو اپنا سفر شروع ہو جائے گا ۔۔۔۔ میں نے فورا اسے مسیج کیا کہ مذید کتنے چاہیں پیسے ؟؟۔ بولا پانچ لاکھ تک مکان مل جائے گا گاؤں میں ۔۔۔۔ میں نے کہا بس آپ تیاری کرو پیسے ہیں میرے پاس۔۔۔۔۔ اگلے روز امی ماموں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی میں نے بلال کو کال کر لی کہ بس آ جاؤ ۔۔ میری ممانی سو رہی تھی میں نے الماری سے پانچ ہزار کے نوٹوں والی گڈی کے ساتھ کچھ اور پیسے بھی اٹھا لئے اور امی کا سارا زیور ایک بلیو کلر کے شاپر میں ڈالے اور چھوٹے ہینڈ بیگ میں جس میں میرے تین سوٹ رکھے ہوئے تھے اسی میں ڈال کر بلال کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔ بلال کی کال آ گئی تھی کہ میں ٹیکسی پر ہوں اور پانچ منٹ میں پہنچ رہا آپ گلی کی نکر پر پہنچو ۔۔۔ میں نے موبائل کو آف کر کے امی کے تکیہ کے نیچے رکھا اور ممانی کے کمرے کا دروازہ کھول کر تسلی کی اور سکن کلر کے چادر لپیٹ کر ہینڈ بیگ اٹھا کر گھر سے باہر آ۔گئی میں گلی کے نکر کی طرف بڑھ رہی تھی کہ ایک ٹیکسی رکی اور بلال نے جلدی آنے کا اشارہ دیا میں اس کے ساتھ بیک سیٹ پر بیٹھ گئی میرے دل چاہا رہا تھا کہ میں بلال سے لپٹ جاؤں لیکن ایسا ٹھیک نہیں تھا اور ہم ویسے بھی اب ایک ہو چکے تھے اور زندگی بھر کا عہد نبھانے نکل پڑے تھے ۔۔۔۔۔ سہراب گوٹھ کے ایک بس ٹرمینل میں بلال ایک بس کے سامنے لگا رحیم یار خان کا بورڈ دیکھ کر رک گیا ٹکٹ خریدی اور ہم دونوں ایک سیٹ پر بیٹھ گئے ۔۔دن کے تین بجے گاڑی وہاں سے نکل پڑی تھی شہر سے نکلنے کے بعد کے نظارے میرے لئے سحر انگیز تھے بلال نے اپنا ایک ہاتھ میری کمر کے گرد لپیٹ رکھا تھا اور میں بہت خوشی سے یہ۔سب کچھ انجوائے کرتی جا رہی تھی ایک جگہ پولیس والا گاڑی کی تلاشی کے دوران ہمارے پاس ٹھہر گیا اور پوچھا آپ کون ہیں ۔۔۔ بلال نے اعتماد سے کہا کہ یہ میری بہن ہے اور ہم رحیم یار خان ماموں کے گھر جا رہا پولیس مین بلال کا سٹوڈنٹ کارڈ دیکھنے کے بعد چلا گیا اور ہم مطمئن ہو گئے بلال اپنے دوست سے مسلسل رابطے میں تھا ۔۔ بلال کے پاس نیا موبائل فون دیکھ کر میں نے پوچھا تو بتایا یہ کچھ دن پہلا لیا ہے اور اس کی سم بھی اسی دوست کے نام پر ہے اور دوست سے اس نمبر سے بات کرتا ہوں اپنا موبائل میں نے بند کر کے چھپا دیا ہے ۔۔۔ میں بھی اپنے موبائل سے بلال کی چیٹنگ ڈیلیٹ کرکے اور باقی چیزیں جو میری سمجھ میں آتی تھی ڈیلیٹ کرکے موبائل امی کے تکیہ کے نیچے چھپا آئی تھی ۔۔۔۔ ہم مختلف شہروں سے گزرتے آگے بڑھ رہے تھے شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے میں نے بلال سے پوچھا تو اس نے اپنے دوست کو کال ملا لی اور اس سے بات کرکے اپنی بتانے لگا ۔ پھر کال کرکے بولا ہمیں اور آگے جانا ہے ۔۔۔ رات کے کسی پہر ہم گاڑی سے اتر چکے تھے اس مین روڈ سے ایک کچہ رستہ بائیں جانب جا رہا تھا جہاں ایک سائن بورڈ لگا تھا لیکن اندھیرے کی وجہ سے اس پر کچھ پڑھنا ممکن نہیں تھا ایک آدمی اپنے منہ پر کپڑا لپیٹے بیٹھا تھا اس نے بلال سے رسمی کلمات ادا کئے اور ہم دونوں سے ہاتھ ملا کر اپنے پیچھے بیٹھنے کو کہا اس کا ہاتھ بہت بڑا اور سخت سا تھا میں اس کے پیچھے بیٹھ گئی اور بلال میرے پیچھے یہ بڑی جسامت کا۔ملک تھا اور اس کی باڈی بہت سخت تھی ہم دس منٹ میں ایک الگ تھلگ کچے مکان کے سامنے رک چکے تھے یہاں سے کچھ فاصلے پر مدھم سے لائٹس دکھ رہی تھی شاید یہ کوئی بستی تھی مکان میں ایک کچہ کمرہ اور اس کے ایک کونے میں باتھ روم بنا ھوا تھا اور دوسرے کونے میں ایک بڑا درخت تھا جہاں گرمی بہت زیادہ تھی دو چارپائیاں صحن میں بچھی ہوئی تھی اور ایک پنکھے کے ساتھ بیٹری لگی ہوئی تھی اس آدمی نے بیٹری سے تاریں جوڑ دیں اور پنکھے کے ساتھ ایک لائٹ بھی روشن ہو گئی بلال کا دوست ساڑھے چھ فٹ کا کو چالیس سال کا سخت قسم کا مرد تھا اس کا رنگ سیاہ تھا اور بڑی بڑی موچھیں رکھی ہوئی تھی روشنی میں اسے دیکھ کر مجھے وہ پہلی مووی والا بلیک ٹیچر یاد آ گیا وہ ہمارے ساتھ بیٹھتے ہوئے میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔بلال یہ تم بہت چھوٹی ہے ۔۔۔ کتنی عمر ہے اس کی؟؟۔ بلال نے بولا اسد یہ 14 سال کی ہے وہ مجھے غور سے دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر بار بار زبان پھیر رہا تھا ۔۔ بولا ہممممم کورٹ میرج نہیں ہو سکتی ۔۔ آپ دونوں کی عمر کم ہے ۔۔۔ بہرحال کوئی اور رستہ نکالتے ہیں ۔۔۔ اس نے ٹیفن ہمارے سامنے کھول دی اور بولا کھانا کھاؤ۔۔۔ ہم نے کچھ کھانا کھا لیا اسد نے پوچھا مکان کا۔کیا کرو گے میں نے کہا ہم اپنا مکان لیں گے ۔۔۔ بلال نے میرے اور اپنے پیسے اسد کو دے دئیے اور ساتھ زیور بھی میں سارا زیور اٹھا کر لائی تھی یہ پتا نہیں کتنا تھا کبھی امی سے کسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے سنا تھا کہ میں نے اپنا دس تولے سونا اپنی بیٹی کے لئے رکھا ہے ۔۔۔۔ اسد بولا یار توں نے لڑکی بہت پیاری چن لی ہے اس جیسی میں نے آج تک نہیں دیکھی ۔۔۔۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد اسد جانے لگا اس نے شاپر اٹھا لیا تھا بولا آپ کنڈی لگا کر سو جاؤ اور بےفکر ہو جاؤ یہاں کوئی نہیں آتا اور بلال کل سے آپ ایک فرنیچر شاپ پر کام کے لئے جاؤں گے میں نے بات کر لی ہے پہلے آپ کا روزگار بھی سٹ کر لیں ساتھ میں کوئی مکان ڈھونڈ لیتا ہوں پھر کسی مولوی کو وہیں بلا کر آپ کا نکاح پڑھ لیں گے ۔۔۔ اسد چلا گیا تھا اور ہم پیار میں گم ہوتے گئے بلال نے مجھے چارپائی پر الٹا لٹا دیا تھا اور ہپس پر بیٹھ کر میری سواری کرنے لگا تھا بہت دنوں بعد ریشمی ببلو میرے اندر مزے کی لہریں چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے بلال کو آواز دی کہ زور سے کروں چارپائی کی چیں چیں کے ساتھ بجتی تالی اور بلال کی انگلی نے مجھے جلدی ڈسچارج کر دیا بلال مسلسل زور کے جھٹکے مار رہا تھا پھر وہ پورا ببلو میرے اندر کر۔کے اکڑ کر زور لگاتا میرے اندر لاوا بھرنے لگا۔۔۔۔۔ مجھے سکون ملنے لگا لاوا میرے اندر کی خوراک بن چکا تھا مجھے سکون کی لہروں میں نیند آ گئی ۔۔۔۔ کائیں کائیں کی آواز پر میری آنکھ کھل گئی بلال ابھی سو رہا تھا درخت پر دو کوے کائیں کائیں کرتے ہمیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔ میں باتھ روم چلی گئی جہاں ہینڈ پمپ لگا ھوا تھا اور میں نے پہلی بار ہینڈ پمپ چلایا تھا جس سے میرے کندھے میں درد ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ آٹھ بجے اسد آ گیا تھا وہ ناشتہ ساتھ لایا تھا بلال بھی نہا کر آ گیا تھا اسد کی نگاہیں مجھے اپنے وجود پر چبھتی محسوس ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد اسد نے مجھے کہا کہ بلال کو میں کام پر لے کے جا رہا تاکہ آپ کے معاملات جلدی سیٹ ہو جائیں آپ نے اتنا بڑا کام کر لیا اب واپس بھی نہیں جا سکتے کہ تم دونوں کو۔مار ڈالیں گے اور نئی زندگی کے لئے تھوڑی محنت کرنی پڑتی ۔۔۔ میرے ساتھ بلال بھی خاموش رہا اور کچھ غمزدہ تھا ۔۔۔ پھر اسد بلال کو ساتھ لے کر چلا گیا اور اس لکڑی کے چھوٹے گیٹ کے آگے تالہ لگا گئے ۔۔۔ میں اس بڑے درخت کے نیچے چارپائی پر بیٹھی بہت کچھ سوچ رہی تھی لیکن کیا سوچ رہی مجھے یاد نہیں ۔۔۔۔۔۔ کوئی ایک گھنٹے بعد گھر کا دروازہ کھلا اور اسد موٹرسائیکل سمیت اندر آ گیا ۔۔ اس نے مین دروازے کو بند کر دیا اور سنجیدہ چہرے کے ساتھ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ بولا پریشان تو۔نہیں ہو۔۔۔ میں نے مسکرانے کی کوشش کہ ساتھ کہا نہیں انکل ۔۔۔ بولا اوہ ہ ہ انکل نہیں ہوں میں بلال میرا دوست ھے اور آپ بھی میری دوست ہو۔۔۔۔ میں نے بلال کا پوچھا تو بولا وہ اب کام کرے گا ۔۔۔۔ آپ نے ایک بچے پر اتنا بڑا اعتماد کرکے غلطی کے ہے۔۔۔۔ بہرحال اب آپ کے پاس دوسرا رستہ نہیں ہے ۔۔۔۔ اسد چارپائی پر لیٹتے ہوئے بولا ذرا مجھے ٹانگیں دبا دو۔۔میرے دماغ میں ہتھوڑے جیسا وار ہوا لیکن میں سمجھ گئی تھی کہ بلال کا دوست کس طرح بلال کی دوستی نبھانا چاہتا ہے میرے پاس کوئی رستہ نہیں تھا اب عقل واپس پیچھے کو لوٹنا چاہتی تھی لیکن اس وقت کیا کرنے ہے یہ ضروری تھا ۔۔۔ اسد اٹھتے ہوئے بولا اندر چلتے ہیں کمرے میں۔۔۔۔۔ وہ چارپائی اٹھا کر اندر چلا گیا اور مجھے بھی بلا لیا میں لرزتے بدن کے ساتھ گہری سوچوں میں اندر جانے لگی ۔۔۔ دوسری طرف میرے دماغ کی سکرین پر پہلی بلیک ٹیچر والی مووی بھی چلنے لگی تھی اسد چارپائی پر۔لیٹ گیا اس کے پاؤں چارپائی سے کافی آگے لٹک آئے تھے اور پوری چارپائی بھر آئی تھی میں چارپائی کے ساتھ سر جھکائے کھڑی تھی وہ تھوڑا سائیڈ پر ہوتے ہوئے بولا بیٹھو ادھر ۔۔۔ میں بیٹھ کر اپنے کانپتے ہاتھ اس کی پنڈلیوں پر رکھ دئیے اس کا جسم بہت سخت تھا ۔۔۔ بولا تیرے ہاتھوں میں بہت سکون اور مزہ ہے ۔۔۔ آہستہ سے دباتی رھو۔۔۔۔ میں اپنے ہاتھ تھوڑے ہلانے لگی تھی اس کا ببلو کھڑا ہوتے ہوئے تنبو بنانے لگا ۔۔۔۔ بولا اپنی قمیض اتار دو۔۔۔ میں نے ٹوٹے الفاظ میں کہا پلیز ایسا نہیں کرو۔۔۔۔ میں بلال ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ہاں بلال تیرا معشوق ہے تمھاری شادی اس سے ہو گی لیکن میں نے اتنا خطرہ لے رہا ۔۔۔۔ پولیس پہنچ گئی تو میں بھی جیل جاؤں گا ناں ۔۔۔۔ میرے ساتھ بھی چلنا ہے آپ کو ۔۔۔ ویسے بھی آج کل کی لڑکیوں کا پیٹ ایک ل سے نہیں بھرتا ۔۔۔۔۔ وہ کچھ دیر مجھے دیکھتے ہوئے پھر بولا قمیض اتار دو۔۔۔ میں کانپتے ہاتھوں سے قمیض اتارتے ہوئے سر جھکا گئی ۔۔۔۔۔ وششششششش کتنے فریش بوبز ہیں تیرے ۔۔۔بریزر نہیں پہنتی ؟؟؟ میں نے نفی میں سر ہلا دیا اس نے اپنے بڑے سخت ہاتھ میں باری باری میرے دونوں بوبز کو بھرا۔۔۔۔۔ میرے وجود میں بجلیاں دوڑ گئی بولا ٹانگیں دباتی رہوں ۔۔۔ میری نظر اس بڑے تنبو پر تھی اور مجھے مووی والے بلیک مین سے بھی اسد کا ببلو بڑا۔لگ رہا تھا ۔۔ وہ میری کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا میری ببلی پھڑکنے لگی تھی ۔۔۔ بولا اس چھوٹے مست جسم کا مزہ کتنے لوگوں کو دیا ؟؟؟ میں نے نفی میں سر ہلا دیا بولا سچ سچ بولو اب تم نے بس ادھر رہنا ہے میں نے مدھم آواز میں بولا بس بلال ۔۔۔۔ بولا کام تو بڑی رنڈیوں والا کیا ۔۔۔۔۔ پھر بولا میری شلوار اتار دو۔۔۔ میں کچھ لمحے رکی تو اسد نے میرے بالوں کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور بولا ۔۔۔ میں پھر سے بولوں گا۔۔۔۔۔۔ میرا دل دھڑک سے باہر آنے لگا میں نے جلدی سے اس کی شلوار اتار دی بہت بڑا کالا ببلو جس پر گوشت نہیں تھا اور ہڈیوں سے بھرا تھا وہ اس چارپائی کے بازو کی طرح چوکور سا تھا بہت زیادہ سخت سیدھا کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔ اسد بولا ۔۔۔ اب اس کو چوسو اور اس سے کھیلو۔۔۔۔ میں اس کے پچکی سی ٹوپی پر اپنے لب رکھ گئی
Next part
ReplyDeleteGood
ReplyDelete