آدم اور عائشہ
آدم اور عائشہ کافی اچھے دوست تھےاور یونیورسٹی میں ایک ہی کلاس میں پڑہتے تھے اور دونوں کافی ذہین بھی تھے۔ آدم عائشہ کو کافی پسند کرتا تھا ۔۔۔۔ایک دن اس نے عائشہ سے پیار کا اظہار کر دیا جس سے عائشہ بہت خوش ہوئی۔۔کیونکہ وہ بھی اس سے محبت کرتی تھی۔۔اور دونوں نے شادی کا بھی فیصلہ کیا۔۔اور ان دونوں نے شادی سے پہلے ایک دوسرے دوسرے کو کچھ نا کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔عائشہ کی عمر 23 سال تھی اور آدم کی عمر 24 سال تھی۔عائشہ اپنی کلاس کی بے حد خوبصورت لڑکی تھی اور آدم بھی بلا کا حسیں نوجوان لڑکا تھا۔۔یونیورسٹی سے ڈگری لینے کے بعد دونوں نے ایک ہی جگہ جاب کے لئیے اپلائی کیا اور قسمت نے بھی اں کا ساتھ دیا اور ایک ہی جگہ نوکری کرنے لگے ۔۔۔۔۔وقت گزرتا گیا۔۔۔عائشہ کے گھر عائشہ کے رشتے کی باتیں چلنے لگیں۔۔۔۔۔۔ اس سے عائشہ پریشان ہو گئی کیونکہ گھر والوں کو آدم کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا ۔۔۔۔عائشہ نے آدم سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے کیبن میں چلی گئی۔۔۔۔۔آدم عائشہ کو دیکھ کر بہت بےتاب ہوا اور اس کو پریشان دیکھ کر بولا کیا ہوا عائشہ تو عائشہ رونے لگی۔۔۔۔۔۔عائشہ کو روتا دیکھ کر آدم بھی رونے لگا اور رونے کی وجہ پوچھنے لگا۔۔۔۔عائشہ روتے روتے سب بات آدم کو بتانے لگی ۔۔۔آدم نے بات سنتے ہی عائشہ کو گلے لگایا اور اسے یقین دلایا کہ آج وہ اپنے گھر والوں سے بات کرے گا۔۔۔۔۔گھر والوں سے بات کر کے اس نے گھروالاں کو منا لیا۔۔۔۔خیر بات چلی اور دونوں کی شادی ہو گئی۔۔۔۔ شادی کی رات وہ لڑکی عائشہ جو آدم کے ہر پل ساتھ رہی پر ان دونوں کے درمیان کچھ نا کرنے کا وعدہ آج ختم ہونا تھا۔۔۔۔اس بات کو عائشہ سوچنے لگی۔۔۔۔عائشہ آج دلہن کے لباس میں آدم کے گھر میں آدم کے کمرے میں پوری زندگی کے لیئے آج خود کو اس کے حولے کرنے کے لیئے تیاربیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔وہ اپنی سھاگ رات کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔۔۔۔اور آدم کے بارے میں سوچ سوچ کے ہی خود کو گرم کر رہی تھی جود کو آدم کے لیئے تیار کر رہی تھی۔۔۔ کہ دروازہ کھلا اور آدم اندر آگیا۔۔۔۔آدم نے اندر آکر عائشہ کا حال پوچھا اور رسمی باتوں کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔اور اس کے ہاتھوں میں انگوٹھی پہنانے لگا۔۔۔عائشہ آدم کے ہاتھ کا لمس اپنے ہاتھوں پر محسوس کر رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی عائشہ پوری طور پر گرم ہو چکی تھی آدم اس کی گرمی کو محسوس کرتے ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹوں کو عائشہ کے ہونٹ پر رکھ دیئے۔۔۔عائشہ آدم کے ہونٹ اپنے ہونٹوں پر آتے ہی برداشت نہ کر پائی اور آدم کے بھی ہونٹ چوسنے لگی آخر وہ بھی خود پر کنٹرول نہ رکھ سکی۔۔۔۔آدم نے عائشہ کو لٹا دیا اور آہستہ آہستہ اس کے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ کبھی اس کی گردن اور کبھی اس کے ہونٹ چوستا۔۔۔۔۔عائشہ آدم کے ہر حملے سے خوب مزے لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔عائشہ کی قمیض کے اترتے ہی۔۔۔آدم اس کے خوبصورت جسم کو دیکھ کر پاگل سا ہو گیا۔۔۔اور اس کی بریزر اترنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عائشہ کو آدم کی ہر حرکت مذید سے مذید تر آگ لگا رہی تھی۔۔۔۔آدم عائشہ کے خوبصورت مموں کو دیکھتے ہی پاگل سا ہوگیا۔۔۔اور چوسنے لگا۔۔۔ عائشہ کے مموں پر آدم کے ہونٹ ایک کرنٹ کی طرح اسے مزہ دے رہے تھے۔۔۔ عائشہ مزے سے پاگل آہ آہ آہہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ آوففففففففففففففففف ہہہممممممم تڑپ رہی تھی ۔۔۔عائشہ کی آوازیں سن کر آدم اور پاگل ہونے لگا اور عائشہ کے مموں کو دبانے اور چوسنے لگا۔۔۔۔۔۔ عائشہ آدم کو چوستے دیکھ کر آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہممممممممممممممممممم کرتے کرتے ایک دم سے اور تڑپنے لگی اور ایک جھٹکا کھا کر پرسکون ہو گئی۔۔۔۔عائشہ مزے سے فارغ ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ آدم نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دئیے اور دیکھتے ہی دیکھتے فل ننگا ہو گیا پھر ۔۔۔عائشہ کی شلوار بھی اس نے اتار دی پر وہ شلوار عائشہ کی نرم پھدی کے ہونٹوں کے ساتھ پھنسی ہوئی تھی۔۔۔۔اور فل گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔آدم نے ایک ہی لمحے میں اس کی شلوار اتار کر پھینک دی۔۔۔آدم اب اس کی گلابی رنگ کی پھدی جو کے بالوں سے بالکل پاک تھی۔۔۔۔اور پھدی کے دونوں ہونٹ آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔۔اس کو دیکھتے ہی اپنی رال ٹپکانے لگا۔۔۔اور نیچے ہو کر عائشہ کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے اس کی پھدی کے ہونٹ چاٹنے لگا۔۔عائشہ کی مزے سے ایک دم چیخ نکل گئی آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ افففففففففففففففف اور اس کو برداشت نہ کر سکی اور ایک دم سے اس کی پہدی نے پچکاری ماری اور پھر سے فارغ ہو گئی۔۔آدم اس کی پھدی سے رسنے والے آخری قطرے تک کو پی گیا اسے اپنی بیوی کا گرم گرم پانی نمکین اور اچھا لگا جسے وہ ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور سب چاٹ گیا۔۔۔عائشہ جس کے ساتھ ہی سب بلکل پہلی بار ہو رہا تھا وہ برداشت نہ کر پائی اور 3۔۔۔۔4 بار پانی نکال چکی تھی۔۔۔۔۔آدم جو کے اپنے لن کو سخت کر چکا تھا اب اور صبر نہ کرتے ہووے عائشہ کی ٹانگیں اٹھا کر کہنے لگا
عائشہ اب برداشت کرنا اور درد ہوگا۔ عائشہ
عائشہ نے آنکھیں بند کر کے تکیے کو پکڑ لیا۔ آدم نے زور دار جھٹکا مارا سیل ٹوٹ گئی۔اور آدم کا لن عائشہ کے اندرونی حصے کی آخری حد کو چھونے لگا۔
ہائے ہائے ہائے میں مر جاؤں گی آج۔
اُسکی پھدی سے خون نکلنے لگا۔
نہیں مرو گی۔ وہ اُسکے ھونٹوں کو چومنے لگا۔
کچھ دیر وہ ٹھہرے رہے تاکہ عائشہ کو تکلیف کم ہو۔ جب عائشہ کچھ پرسکون ہوئی تو آدم نے آہستہ آہستہ اپنا عمل جاری کر دیا۔ اُسکی پھدی بہت تنگ تھی آدم کو مزہ اور عائشہ کو تکلیف ہو رہی تھی۔
کچھ دیر وہ چیختی رہی۔ پھر دھیرے دھیرے اسے مزہ آنے لگا۔وہ رونا بُھول گئی۔
آدم کو پتہ چل گیا اب وہ تیار ہے۔ اِس لئے اپنا عمل تیز کردیا۔
جان جان جان۔ عائشہ کی سسکیاں ، آہیں کمرے میں گونج رہی تھی۔ جیسے وہ سسک رہی تھی آدم کو اپنا عمل کرنے میں مزا آ رہا تھا۔ تھپ تھپ کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔
جب آدم چھوٹ گیا
تو عائشہ کا وجود پسینے میں بھیگ گیا تھا۔بال اور آنکھوں کا کاجل بکھر گیا تھا۔وہ بری طرح ہانپ رہی تھی۔آدم اُسکے سینے کو چوم رہا تھا تاکہ وہ کچھ بہتر محسوس کرے ۔آدم میرے یہاں بہت درد ہو رہا۔
اسے دوبارہ درد ہونے لگا۔
ہاں کیوں کہ تمہاری یہ جگہ پھٹ گئی ہے۔
مُجھے درد کم کرنا ہے۔ مجھے سے ہلا نہیں جا رہا۔ وہ رونے لگی تو آدم نے اُسکے جسم کو ٹشو کی مدد سے صاف کیا۔زیتون کے تیل کو اُسکی ٹانگوں کے درمیانی سوراخ میں ڈالا۔ آس پاس بھی لگا کر مالش کی۔
عائشہ آج پہلی بار تھا تو تکلیف ہوئی۔ آئندہ کم ہوگی اور پھر بلکل نہیں ہوگی۔
جان اب کیا میں آپکے بچے کی ماں بنوں گی۔
نہیں تم ابھی بچی ہو۔ میں نے بچے پیدا کروانے کا سسٹم بند کروایا ہے۔ جب مجھے لگا تم بچے پیدا کرنے کے قابل ہو تب میں اپنا بچہ تم میں ڈال دوں گا۔
وہ وقت کب آئے گا۔مجھے جلدی کرنا ہے۔
رہنے دو۔ ابھی خود بچی ہو۔
مجھے بچے پسند ہیں اسکا مطلب نہیں ،، میں تم پر ظلم کرونگا۔
اور تم ناراض ہوکر چلی جاؤں گی ،
میں جانتی ہوں ۔
نہیں عائشہ۔ ۔
اس کے بعد آدم عائشہ کو پیار کرتا رہا اس رات آدم نے بس دو بار کیا اور سو گئے۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment